حسن والوں کی طبیعت سے حیا نکلی ہے
Qaisar Azeez (b. 1962)حسن والوں کی طبیعت سے حیا نکلی ہے
عشق کی خاک سے خوشبوئے وفا نکلی ہے
سانس نکلی ہے تو کم بخت قضا نکلی ہے
موت کی کوکھ سے جینے کی دوا نکلی ہے
چاہے آرام دے تکلیف دے اس کا بیٹا
ماں کے دل سے تو ہمیشہ ہی دعا نکلی ہے
چھوڑ کر اپنے ہر اک کام کو نکلے باہر
جب بھی مسجد سے موذن کی صدا نکلی ہے
خانقاہوں پہ برستی ہے کہ مے خانوں پر
بیٹھ کر دوش ہوا پر جو گھٹا نکلی ہے
جس کو سمجھا تھا مسیحا ترے بیماروں نے
اس کی جھولی سے ابھی نقلی دوا نکلی ہے
ایک دنیا ہوئی آخر کو منور قیصرؔ
کملی والے کے مدینے سے ضیا نکلی ہے