کبھی تو عشق میں ایسی گھڑی بھی آتی ہے
Qaisar Azeez (b. 1962)کبھی تو عشق میں ایسی گھڑی بھی آتی ہے
سکون ملتا ہے غم سے خوشی رلاتی ہے
یہ کس مقام سے آخر تجھے پکارتا ہوں
مری صدا مری جانب ہی لوٹ آتی ہے
جنوں ہو عقل و خرد سے ہزار بیگانہ
تری کشش تو دوانے کو کھینچ لاتی ہے
میں شہر چھوڑ کے صحرا میں جا رہا ہوں سنو
کہاں کی مٹی ہے مجھ کو کہاں بلاتی ہے
اے زندگی تجھے رہنا ہے میرے ساتھ تو پھر
نگاہیں چار کر آنکھوں کو کیوں چراتی ہے
تمہارے حسن کی معصومیت ارے توبہ
خدا کی شان ہے جو عاقبت بچاتی ہے
شہید ناز نے خون جگر سے غسل کیا
مگر گلاب کی خوشبو کفن سے آتی ہے