کیا گھٹا آسماں پہ چھائی ہے

Kailash Guru Swami (b. 1948)

کیا گھٹا آسماں پہ چھائی ہے

جیسے بھر کر شراب لائی ہے

موت سے کر کے دل لگی ہم نے

زندگی سے نجات پائی ہے

تھامے رکھا تری نگاہوں نے

ناؤ جب میری ڈگمگائی ہے

رشک کرنے لگی ہے باد صبا

جب خزاں پر بہار آئی ہے

مے سے توبہ تو کر چکے تھے حضور

تشنگی آپ نے بڑھائی ہے

ایک بچے کی مسکراہٹ میں

کیا مقدس کتاب پائی ہے

خط وہ سوامیؔ پڑھے نہیں جاتے

بوند آنسو کی جن میں پائی ہے