غم زمانے سے چھپانا ہی پڑا
Kailash Guru Swami (b. 1948)غم زمانے سے چھپانا ہی پڑا
روتے روتے مسکرانا ہی پڑا
دل کو دل سے بھی بچانا ہی پڑا
یہ بھی غم مجھ کو اٹھانا ہی پڑا
سازشی ترچھی نظر تھی کیا کہیں
چوٹ کھا کر مسکرانا ہی پڑا
پی سبھی نے میں ہی تشنہ تھا مگر
ساتھ ان کے لڑکھڑانا ہی پڑا
ان کی رسوائی نے جب گھیرا مجھے
مجھ کو ان سے دور جانا ہی پڑا
زندگی کو اور کب تک جھیلتا
موت سے پنجا لڑانا ہی پڑا
آنسوؤں نے اس طرح ترتیب دی
غم کا ہر قصہ سنانا ہی پڑا
انتہائے عشق میں کھائے فریب
چاہ کر بھی بھول جانا ہی پڑا
تیرگی تھی اور ان کی یاد تھی
دل کو ایسے میں جلانا ہی پڑا
حال دل ان سے چھپاتے کب تلک
راز الفت کا بتانا ہی پڑا
سوامیؔ ان کی ضد کے آگے جھک گئے
بجلیوں پر گھر بنانا ہی پڑا