دل کی ہر آرزو ناکام ہوئی جاتی ہے

Bal Swaroop Rahi (b. 1936)

دل کی ہر آرزو ناکام ہوئی جاتی ہے

زندگی درد کا پیغام ہوئی جاتی ہے

کیسے ممکن ہے سزا پیار کی مجھ کو نہ ملے

ہر صفائی مری الزام ہوئی جاتی ہے

کس نے آنگن میں کھڑے ہو کے یہ زلفیں کھولیں

روز روشن ہے مگر شام ہوئی جاتی ہے

ذکر آتے ہی ترا دیکھتے سب میری طرف

تو تو اب میری ہی ہم نام ہوئی جاتی ہے

زندگی ہاتھ میں تھی زہر کا پیالہ میرے

تیرے ہاتھوں میں مگر جام ہوئی جاتی ہے

ہم ڈبا آئے سویم اپنی ہی کشتی راہیؔ

تو تو بے کار ہی بد نام ہوئی جاتی ہے