حسن کو بے نقاب دیکھا ہے
Bal Swaroop Rahi (b. 1936)حسن کو بے نقاب دیکھا ہے
جیوں کھلی آنکھ خواب دیکھا ہے
کیسا حیرانگی کا عالم ہے
فرش پر ماہتاب دیکھا ہے
آپ پہلو بدل کے انگڑائے
یا کوئی انقلاب دیکھا ہے
آپ دیکھے تو یہ لگا جیسے
آرزو کا شباب دیکھا ہے
چشم نرگس میں لاج کے ڈورے
یا کہ جام شراب دیکھا ہے
ناز کس بات پر تجھے ہے گل
ہم نے تیرا جواب دیکھا ہے
آشیاں کو قفس سمجھتے ہیں
ہم سا خانہ خراب دیکھا ہے
ساتھ کانٹوں کے جو نہیں راہیؔ
آج ایسا گلاب دیکھا ہے