خالی الذہن ہوئے جب سے خلاؤں کی طرح
Aajiz Hengan Ghati (1936–2008)خالی الذہن ہوئے جب سے خلاؤں کی طرح
ہم بھٹکتے رہے بے لاگ ہواؤں کی طرح
خود کشی جرم ہے سنگین خطاؤں کی طرح
زندگی دیکھ ادھر ہم میں خداؤں کی طرح
کتنا آسان ہے احساس کی تلخی کا علاج
زہر بکتا ہے سر عام دواؤں کی طرح
کیا مقدر ہے کہ سورج کے نگر میں رہ کر
چاند سے لوگ ہیں تاریک گپھاؤں کی طرح
ہائے اس دور کی تقدیر میں آواز اذاں
کارگر کیوں نہیں میلوں کی صداؤں کی طرح
اس کے جلتے ہوئے ہونٹوں پہ مرا نام عاجزؔ
آج بھی آتا ہے مجبور دعاؤں کی طرح