نہ آنکھ چھلکی نہ ہونٹ لرزے نہ سانس الجھی نہ دل ہی دھڑکا

Urfi Aafaqi (b. 1936)

نہ آنکھ چھلکی نہ ہونٹ لرزے نہ سانس الجھی نہ دل ہی دھڑکا

کہاں وہ جذبات کا تلاطم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھے

نہ پیاری پیاری شکایتیں وہ نہ پہلے جیسی عنایتیں وہ

نہ گالیاں وہ پر از ترنم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھے

خموشیاں تھیں جو دو بہ دو تھیں خموشیاں تھیں جو چار سو تھیں

خموشیاں تھیں جو تھیں تکلم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھے

وہی زمیں تھی وہی فلک تھا وہی تھیں صبحیں وہی تھیں شامیں

ہزار صدیوں کی دوریاں تھیں جو دشت و صحرا سی درمیاں تھیں

رباب غم پھر اٹھاؤ عرفیؔ وہی غزل پھر سناؤ عرفیؔ