آج پھر رنگ پہ ہے شام خدا خیر کرے
Bal Swaroop Rahi (b. 1936)آج پھر رنگ پہ ہے شام خدا خیر کرے
پھر مرے ہاتھ میں ہے جام خدا خیر کرے
لوگ کہتے ہیں کہ وہ مجھ پہ مہربان ہیں پھر
ان کے ہونٹوں پہ مرا نام خدا خیر کرے
ہے یہ افواہ بڑے زور پہ ہر محفل میں
ان کو مجھ سے ہے کوئی کام خدا خیر کرے
پھر رنگے ہاتھ مجھے درد نے آ پکڑا ہے
پھر محبت کا ہے الزام خدا خیر کرے
لاکھوں طوفان کہ جس دل میں بسے رہتے تھے
آج کل ہے وہاں آرام خدا خیر کرے
جو مجھے دیکھ کے نظروں کو چرا لیتے تھے
ان کی آنکھوں میں ہے پیغام خدا خیر کرے
جانے کیا سوچ کے اس بت نے الٹ دی ہے نقاب
اور پھر وہ بھی سر بام خدا خیر کرے
یوں تو پہلے بھی کئی دوست دغا دیتے تھے
اب تو یہ بات ہوئی عام خدا خیر کرے
میرے معصوم ارادوں نے دوبارہ راہیؔ
ان کا آنچل ہے لیا تھام خدا خیر کرے