Poetry
Poet
Meter
- عجیب ہےدشت آگہی کا سفرParveen Fana Syed (1936–2010)
- ہوا کس قدر تیز ہےاجنبی شام سنولا گئیParveen Fana Syed (1936–2010)
- اندھے وقت کےگہرے کنویں میںParveen Fana Syed (1936–2010)
- تمہارا دلتجلیوں کے طور کی ضیا سےParveen Fana Syed (1936–2010)
- وہ جس کی آنکھوں میں رت جگوں کی بصیرتیں ہیںوہ مشعل جاں سے دشت کی ظلمتوں میںParveen Fana Syed (1936–2010)
- آ گیا یاد خدا آخر کاراٹھ گیا دست دعا آخر کارTahir Tilhari (b. 1936)
- باڑھ آئی گاؤں کو دریا بہا کر لے گیاایک پیاسا دوسرے پیاسے کو آ کر لے گیاTahir Tilhari (b. 1936)
- تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھسایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھTahir Tilhari (b. 1936)
- تیرے باعث مسئلہ حل ہو گیامیں ادھورا تھا مکمل ہو گیاTahir Tilhari (b. 1936)
- جو ہم کہیں وہی طرز بیان رکھتا ہےوہ اپنے منہ میں ہماری زبان رکھتا ہےTahir Tilhari (b. 1936)
- حیات و موت کی الجھن میں ڈالتا کیوں ہےیہ تہمتیں مرے اوپر اچھالتا کیوں ہےTahir Tilhari (b. 1936)
- خلش زخم تمنا کا مداوا بھی نہ تھامیں نے وہ چاہا جو تقدیر میں لکھا بھی نہ تھاTahir Tilhari (b. 1936)
- خوابوں کی چاندنی کا سراپا کہاں سے آئےجب جسم ہی نہیں ہے تو سایا کہاں سے آئےTahir Tilhari (b. 1936)
- دل بشر ہے عجب دو رخی سے وابستہکسی کے سائے سے نفرت کسی سے وابستہTahir Tilhari (b. 1936)
- ستم پر ستم سہہ رہی ہے زمیںمگر منہ سے کب بولتی ہے زمیںTahir Tilhari (b. 1936)
- سورج کی طرح اپنے ہی محور میں قید ہوںصدیوں سے روشنی کے سمندر میں قید ہوںTahir Tilhari (b. 1936)
- شمعوں کی طرح پگھل رہے ہیںہم غم کی چتا میں جل رہے ہیںTahir Tilhari (b. 1936)
- کوئی تو سوغات اس کے شہر کی گھر لے چلوکچھ نہیں تو جسم پر زخموں کی چادر لے چلوTahir Tilhari (b. 1936)
- کوئی دیکھے تو یہ انداز ستانے والامجھ سے غافل ہے مرے خواب میں آنے والاTahir Tilhari (b. 1936)
- میرا مقصود نظر لوح مقدر میں نہیںمیں وہ موتی ڈھونڈھتا ہوں جو سمندر میں نہیںTahir Tilhari (b. 1936)
- میں اک بہتا دریا ہوںلیکن کتنا پیاسا ہوںTahir Tilhari (b. 1936)
- ہوتا ہر قید سے آزاد تو اچھا ہوتاکاش میں پیڑ سے ٹوٹا ہوا پتا ہوتاTahir Tilhari (b. 1936)
- دوستوں میں کوئی خدا تو نہ تھاتم نے پھر کیوں بھلا دیا مجھ کوTahir Tilhari (b. 1936)
- اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گاسورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گاEjaz Rahmani (1936–2019)
- اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرےمگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرےEjaz Rahmani (1936–2019)
- خشک دریا پڑا ہے خواہش کاخواب دیکھا تھا ہم نے بارش کاEjaz Rahmani (1936–2019)
- رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیںیہ پرندے کہاں سے آئے ہیںEjaz Rahmani (1936–2019)
- سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئیتھک کر جو بیٹھے ہم تو تھکن اور بڑھ گئیEjaz Rahmani (1936–2019)
- ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگسوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
- کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگخود فراموش ہو گئے ہم لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
- مٹ گیا غم ترے تکلم سےلب ہوئے آشنا تبسم سےEjaz Rahmani (1936–2019)
- نقش بر آب ہو گیا ہوں میںکتنا کم یاب ہو گیا ہوں میںEjaz Rahmani (1936–2019)
- ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہےیہ کون ہے جو مرے گھر کے پاس رہتا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
- ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوںدیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوںEjaz Rahmani (1936–2019)
- آدمی کا وقار علم سے ہےزندگی کی بہار علم سے ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
- ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھوابھی یارو سفر کی ابتدا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
- تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرفباہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتاEjaz Rahmani (1936–2019)
- وہ ایک پل کی رفاقت بھی کیا رفاقت تھیجو دے گئی ہے مجھے عمر بھر کی تنہائیEjaz Rahmani (1936–2019)
- ابلتے پانیوں میں ہوں کہاں ابال کی طرحمیں آج بھی ہوں تہہ نشیں گزشتہ سال کی طرحQaisar Shameem (1936–2021)
- ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینااپنے آنگن کو نئی رت کی کہانی دیناQaisar Shameem (1936–2021)
- تھوڑی سی شہرت بھی ملی ہے تھوڑی سی بدنامی بھیمیری سیرت میں اے قیصرؔ خوبی بھی ہے خامی بھیQaisar Shameem (1936–2021)
- سلگ رہی ہے زمیں یا سپہر آنکھوں میںدھواں دھواں سا ہے کیوں تیرا شہر آنکھوں میںQaisar Shameem (1936–2021)
- شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہےکھنڈر کھنڈر ہے یہاں دھول کے سوا کیا ہےQaisar Shameem (1936–2021)
- کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میںگھرا ہوا ہوں ابھی تک انا کے بندوں میںQaisar Shameem (1936–2021)
- موسم تو بدلتے ہیں لیکن کیا گرم ہوا کیا سرد ہوااے دوست ہمارے آنگن میں رہتی ہے ہمیشہ زرد ہواQaisar Shameem (1936–2021)
- میں مسافر صبا کی راہوں کابوجھ اٹھائے ہوئے گناہوں کاQaisar Shameem (1936–2021)
- وہ جو سب کا بہت چہیتا تھاقبر کی ساعتوں میں تنہا تھاQaisar Shameem (1936–2021)
- ہونے لگے ہیں رستے رستے، آپس کے ٹکراؤ بہتایک ساتھ کے چلنے والوں میں بھی ہے الگاؤ بہتQaisar Shameem (1936–2021)
- ساز سے میرے غلط نغموں کی امید نہ کرآگ کی آگ ہے دل میں تو دھواں کیوں کر ہوQaisar Shameem (1936–2021)
- سبز موسم سے مجھے کیا لیناشاخ سے اپنی جدا ہوں باباQaisar Shameem (1936–2021)