Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. عجیب ہےدشت آگہی کا سفرParveen Fana Syed (1936–2010)
  2. ہوا کس قدر تیز ہےاجنبی شام سنولا گئیParveen Fana Syed (1936–2010)
  3. اندھے وقت کےگہرے کنویں میںParveen Fana Syed (1936–2010)
  4. تمہارا دلتجلیوں کے طور کی ضیا سےParveen Fana Syed (1936–2010)
  5. وہ جس کی آنکھوں میں رت جگوں کی بصیرتیں ہیںوہ مشعل جاں سے دشت کی ظلمتوں میںParveen Fana Syed (1936–2010)
  6. آ گیا یاد خدا آخر کاراٹھ گیا دست دعا آخر کارTahir Tilhari (b. 1936)
  7. باڑھ آئی گاؤں کو دریا بہا کر لے گیاایک پیاسا دوسرے پیاسے کو آ کر لے گیاTahir Tilhari (b. 1936)
  8. تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھسایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھTahir Tilhari (b. 1936)
  9. تیرے باعث مسئلہ حل ہو گیامیں ادھورا تھا مکمل ہو گیاTahir Tilhari (b. 1936)
  10. جو ہم کہیں وہی طرز بیان رکھتا ہےوہ اپنے منہ میں ہماری زبان رکھتا ہےTahir Tilhari (b. 1936)
  11. حیات و موت کی الجھن میں ڈالتا کیوں ہےیہ تہمتیں مرے اوپر اچھالتا کیوں ہےTahir Tilhari (b. 1936)
  12. خلش زخم تمنا کا مداوا بھی نہ تھامیں نے وہ چاہا جو تقدیر میں لکھا بھی نہ تھاTahir Tilhari (b. 1936)
  13. خوابوں کی چاندنی کا سراپا کہاں سے آئےجب جسم ہی نہیں ہے تو سایا کہاں سے آئےTahir Tilhari (b. 1936)
  14. دل بشر ہے عجب دو رخی سے وابستہکسی کے سائے سے نفرت کسی سے وابستہTahir Tilhari (b. 1936)
  15. ستم پر ستم سہہ رہی ہے زمیںمگر منہ سے کب بولتی ہے زمیںTahir Tilhari (b. 1936)
  16. سورج کی طرح اپنے ہی محور میں قید ہوںصدیوں سے روشنی کے سمندر میں قید ہوںTahir Tilhari (b. 1936)
  17. شمعوں کی طرح پگھل رہے ہیںہم غم کی چتا میں جل رہے ہیںTahir Tilhari (b. 1936)
  18. کوئی تو سوغات اس کے شہر کی گھر لے چلوکچھ نہیں تو جسم پر زخموں کی چادر لے چلوTahir Tilhari (b. 1936)
  19. کوئی دیکھے تو یہ انداز ستانے والامجھ سے غافل ہے مرے خواب میں آنے والاTahir Tilhari (b. 1936)
  20. میرا مقصود نظر لوح مقدر میں نہیںمیں وہ موتی ڈھونڈھتا ہوں جو سمندر میں نہیںTahir Tilhari (b. 1936)
  21. میں اک بہتا دریا ہوںلیکن کتنا پیاسا ہوںTahir Tilhari (b. 1936)
  22. ہوتا ہر قید سے آزاد تو اچھا ہوتاکاش میں پیڑ سے ٹوٹا ہوا پتا ہوتاTahir Tilhari (b. 1936)
  23. دوستوں میں کوئی خدا تو نہ تھاتم نے پھر کیوں بھلا دیا مجھ کوTahir Tilhari (b. 1936)
  24. اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گاسورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گاEjaz Rahmani (1936–2019)
  25. اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرےمگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرےEjaz Rahmani (1936–2019)
  26. خشک دریا پڑا ہے خواہش کاخواب دیکھا تھا ہم نے بارش کاEjaz Rahmani (1936–2019)
  27. رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیںیہ پرندے کہاں سے آئے ہیںEjaz Rahmani (1936–2019)
  28. سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئیتھک کر جو بیٹھے ہم تو تھکن اور بڑھ گئیEjaz Rahmani (1936–2019)
  29. ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگسوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
  30. کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگخود فراموش ہو گئے ہم لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
  31. مٹ گیا غم ترے تکلم سےلب ہوئے آشنا تبسم سےEjaz Rahmani (1936–2019)
  32. نقش بر آب ہو گیا ہوں میںکتنا کم یاب ہو گیا ہوں میںEjaz Rahmani (1936–2019)
  33. ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہےیہ کون ہے جو مرے گھر کے پاس رہتا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
  34. ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوںدیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوںEjaz Rahmani (1936–2019)
  35. آدمی کا وقار علم سے ہےزندگی کی بہار علم سے ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
  36. ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھوابھی یارو سفر کی ابتدا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
  37. تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرفباہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتاEjaz Rahmani (1936–2019)
  38. وہ ایک پل کی رفاقت بھی کیا رفاقت تھیجو دے گئی ہے مجھے عمر بھر کی تنہائیEjaz Rahmani (1936–2019)
  39. ابلتے پانیوں میں ہوں کہاں ابال کی طرحمیں آج بھی ہوں تہہ نشیں گزشتہ سال کی طرحQaisar Shameem (1936–2021)
  40. ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینااپنے آنگن کو نئی رت کی کہانی دیناQaisar Shameem (1936–2021)
  41. تھوڑی سی شہرت بھی ملی ہے تھوڑی سی بدنامی بھیمیری سیرت میں اے قیصرؔ خوبی بھی ہے خامی بھیQaisar Shameem (1936–2021)
  42. سلگ رہی ہے زمیں یا سپہر آنکھوں میںدھواں دھواں سا ہے کیوں تیرا شہر آنکھوں میںQaisar Shameem (1936–2021)
  43. شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہےکھنڈر کھنڈر ہے یہاں دھول کے سوا کیا ہےQaisar Shameem (1936–2021)
  44. کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میںگھرا ہوا ہوں ابھی تک انا کے بندوں میںQaisar Shameem (1936–2021)
  45. موسم تو بدلتے ہیں لیکن کیا گرم ہوا کیا سرد ہوااے دوست ہمارے آنگن میں رہتی ہے ہمیشہ زرد ہواQaisar Shameem (1936–2021)
  46. میں مسافر صبا کی راہوں کابوجھ اٹھائے ہوئے گناہوں کاQaisar Shameem (1936–2021)
  47. وہ جو سب کا بہت چہیتا تھاقبر کی ساعتوں میں تنہا تھاQaisar Shameem (1936–2021)
  48. ہونے لگے ہیں رستے رستے، آپس کے ٹکراؤ بہتایک ساتھ کے چلنے والوں میں بھی ہے الگاؤ بہتQaisar Shameem (1936–2021)
  49. ساز سے میرے غلط نغموں کی امید نہ کرآگ کی آگ ہے دل میں تو دھواں کیوں کر ہوQaisar Shameem (1936–2021)
  50. سبز موسم سے مجھے کیا لیناشاخ سے اپنی جدا ہوں باباQaisar Shameem (1936–2021)