پھر کیا جو پھوٹ پھوٹ کے خلوت میں روئیے
Urfi Aafaqi (b. 1936)پھر کیا جو پھوٹ پھوٹ کے خلوت میں روئیے
یکسر جہان ہی کو نہ جب تک ڈبوئیے
کانٹے اگر ملیں تو جگر میں چبھوئیے
آنسو جہاں بھی جس کی بھی آنکھوں میں دیکھیے
موتی سمجھ کے رشتۂ جاں میں پروئیے
ہر صبح اک جزیرۂ نو کی تلاش میں
ساحل سے دور شورش طوفاں کے ہوئیے