Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتےوہ خود اگر کہیں ملتا تو گفتگو کرتےMustafa Zaidi (1930–1970)
  2. سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنایہ سر جھکتے ہیں یا دیوار زنداں دیکھتے رہناMustafa Zaidi (1930–1970)
  3. غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلنوہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پنMustafa Zaidi (1930–1970)
  4. فن کار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھیوہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھیMustafa Zaidi (1930–1970)
  5. قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھزوال عشق میں سوداگروں کا ہات تو دیکھMustafa Zaidi (1930–1970)
  6. کبھی جھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہےہم گئی رات پہ دل کو لیے بہلاتے رہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  7. کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہےغم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  8. کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئےتجھے جو پا نہ سکے زیست کو سنوار آئےMustafa Zaidi (1930–1970)
  9. کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملارشتۂ درد اسی دشمن ایماں سے ملاMustafa Zaidi (1930–1970)
  10. کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجےکبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجےMustafa Zaidi (1930–1970)
  11. کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھادیکھا تو ہر جمال اسی آئینے میں تھاMustafa Zaidi (1930–1970)
  12. گریہ تو اکثر رہا پیہم رہاپھر بھی دل کے بوجھ سے کچھ کم رہاMustafa Zaidi (1930–1970)
  13. لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھیکس کام کی یہ اپنی وسیع النظری بھیMustafa Zaidi (1930–1970)
  14. نگر نگر میلے کو گئے کون سنے گا تیری پکاراے دل اے دیوانے دل! دیواروں سے سر دے مارMustafa Zaidi (1930–1970)
  15. وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھیہمارے وعدۂ الفت کو بھول جاؤ بھیMustafa Zaidi (1930–1970)
  16. ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیںکل کا آئین ہے اب تک سر مسند کہ نہیںMustafa Zaidi (1930–1970)
  17. یوں تو وہ ہر کسی سے ملتی ہےہم سے اپنی خوشی سے ملتی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  18. اس کو کرنوں نے دی ہے تابانیاس کو مہتاب نے سنوارا ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  19. اس کے چہرے کا عکس پڑتا ہےاس کی باتیں شروع ہوتی ہیںMustafa Zaidi (1930–1970)
  20. اللہ اللہ یہ لرزش مژگاںجھٹپٹے کا ہے طرفہ راز و نیازMustafa Zaidi (1930–1970)
  21. سن کے لوگوں کے زہر سے فقرےدیکھ کر اپنے گھر کی بربادیMustafa Zaidi (1930–1970)
  22. صرف کہہ دوں کہ ناؤ ڈوب گئییا بتاؤں کہ کیسے ڈوبی تھیMustafa Zaidi (1930–1970)
  23. کاش ہم لوگ لڑ گئے ہوتےآپ کی دوستی کا رونا ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  24. مجھ کو چپ چاپ اس طرح مت دیکھمیرے بستر کی سلوٹیں مت کھولMustafa Zaidi (1930–1970)
  25. مدتوں کور نگاہی دل کینور عرفاں کو ترستی رہتیMustafa Zaidi (1930–1970)
  26. میری آنکھوں میں نیند چبھتی ہےمیرے سینے میں جاگتے ہیں الاؤMustafa Zaidi (1930–1970)
  27. وقت کے ساتھ لوگ کہتے تھےزخم دل بھی تمہارے ہوں گے دورMustafa Zaidi (1930–1970)
  28. یوں تو اکثر خیال آتا تھامیں جو ہوں اس سے ماسوا بن جاؤںMustafa Zaidi (1930–1970)
  29. بزدلMustafa Zaidi (1930–1970)
  30. وفا کیسی؟Mustafa Zaidi (1930–1970)
  31. آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریںMustafa Zaidi (1930–1970)
  32. ہم لوگMustafa Zaidi (1930–1970)
  33. مری پتھر آنکھیںMustafa Zaidi (1930–1970)
  34. تعمیرMustafa Zaidi (1930–1970)
  35. فرہادMustafa Zaidi (1930–1970)
  36. ماہ و سالMustafa Zaidi (1930–1970)
  37. سیاہ لہوMustafa Zaidi (1930–1970)
  38. دوریMustafa Zaidi (1930–1970)
  39. کہانیMustafa Zaidi (1930–1970)
  40. سفر آخر شبMustafa Zaidi (1930–1970)
  41. انتہاMustafa Zaidi (1930–1970)
  42. دوراہا (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
  43. روح کی موتMustafa Zaidi (1930–1970)
  44. آواز کے سائےMustafa Zaidi (1930–1970)
  45. فساد ذاتMustafa Zaidi (1930–1970)
  46. یاد (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
  47. رہ و رسم آشنائیMustafa Zaidi (1930–1970)
  48. تجریدMustafa Zaidi (1930–1970)
  49. سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہےاس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  50. پہلا پتھرMustafa Zaidi (1930–1970)