Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہےمیری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہےQamar Jameel (1927–2000)
  2. اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میںمیں نے کچھ پھول کھلا رکھے ہیں آئینے میںQamar Jameel (1927–2000)
  3. ایک پتھر کہ دست یار میں ہےپھول بننے کے انتظار میں ہےQamar Jameel (1927–2000)
  4. ایک عجب شہزادہ میرے باغوں کادیکھو آیا موسم سرخ چراغوں کاQamar Jameel (1927–2000)
  5. جانے دو ان نغموں کو آہنگ شکست ساز نہ سمجھودرد بھری آواز تو سن لو درد بھری آواز نہ سمجھوQamar Jameel (1927–2000)
  6. خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کا دکھانا مشکل ہےآئینے میں پھول کھلا ہے ہاتھ لگانا مشکل ہےQamar Jameel (1927–2000)
  7. دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریںنرم ہوا کے جھونکو آؤ موسم کو زنجیر کریںQamar Jameel (1927–2000)
  8. سایہ نہیں ہے دور تک سائے میں آئیں کس طرحہم آ گئے ہیں کس طرف تم کو بتائیں کس طرحQamar Jameel (1927–2000)
  9. شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھاپھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھاQamar Jameel (1927–2000)
  10. کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیںآسماں پہ شمعیں روشن ہیں مگر خوابیدہ ہیںQamar Jameel (1927–2000)
  11. میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کےوہ چراغ بجھ گئے ہیں مری عمر جاوداں کےQamar Jameel (1927–2000)
  12. وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھامرا محبوب جیسے گل تھا اور بلبل چہکتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
  13. ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیںروئے لیلیٰ کو صبا کہتے ہیںQamar Jameel (1927–2000)
  14. اولحلقۂ یاراں میں کنعاں رات کے پچھلے پہرQamar Jameel (1927–2000)
  15. اے رونے والے بادلچپ ہو جاQamar Jameel (1927–2000)
  16. بھولی بسری یادیں اب بھی کانوں میں رس گھولتی ہیںمجھ سے کیسی کیسی باتیں تنہائی میں بولتی ہیںQamar Jameel (1927–2000)
  17. جب میں بچہ تھاراوی کے گالوں سے ڈرتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
  18. خوابوں کی افسردہ ہوا میں رہنے والے سرخ گلابجنگل کی تاریک فضا میں لے کے نکل آتے ہیں چراغQamar Jameel (1927–2000)
  19. سورج سے آگے اک جنگل ہےمیں اس جنگل کا دیا ہوںQamar Jameel (1927–2000)
  20. شہر کی گلیاں گھوم رہی ہیں میرے قدم کے ساتھایسے سفر میں اتنی تھکن میں کیسے کٹے گی راتQamar Jameel (1927–2000)
  21. شہر کی گلیوں کے روشن زاویےرات کی تنہائیوں کے ہم سفرQamar Jameel (1927–2000)
  22. میری آنکھیں میری جانتیرا عبادت خانہQamar Jameel (1927–2000)
  23. میری محبت چاہتی ہے مینارے گھر کے شوالوں کےکچھ باتیں مکے والوں کی کچھ قصے بنارس والوں کےQamar Jameel (1927–2000)
  24. میں اپنے گھر میں دیئے کی طرحجلنا چاہتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
  25. میں ایک بوڑھے برگد کا درخت ہوںجس کی شاخیں کٹ چکی ہیں اور پتےQamar Jameel (1927–2000)
  26. یہ ادائیں رقص کے ہنگام کتنی رقص خیزوہ جوانان قبیلہ ہوش سے باہر چلےQamar Jameel (1927–2000)
  27. یہ سماں اور رات کی جادوگریچاند کا لے کر چلی ہاتھوں میں تاجQamar Jameel (1927–2000)
  28. آدم کی پہلی آوازان پتھروں میں اب بھیQamar Jameel (1927–2000)
  29. ایشیا کی اس ویران پہاڑی پرموت ایک خانہ بدوش لڑکی کی طرحQamar Jameel (1927–2000)
  30. بن مانس کے کالے بدن پرہیرے چمکتے ہیںQamar Jameel (1927–2000)
  31. تم مجھے قتل نہ کرومیں خود کئی ٹکڑوں میں بٹ جاؤں گاQamar Jameel (1927–2000)
  32. میں حسن مطلق کی کرسی پربیٹھ کرQamar Jameel (1927–2000)
  33. اب تو خود سے بھی کچھ ایسا ہے بشر کا رشتہجیسے پرواز سے ٹوٹے ہوئے پر کا رشتہGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  34. تمہارا دل تو ہمارے سبھاؤ جیسا ہےہٹا کے چہرے سے چہرہ دکھاؤ جیسا ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  35. جو مثل تیر چلا تھا کمان سا خم ہےنگاہ دوست میں تاثیر اسم اعظم ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  36. حصار کاسۂ سر توڑ کر نکل آئےطلب ہوئی تھی تو سجدوں کے پر نکل آئےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  37. حیات عشق کو اتنا تو نور فام کریںمہہ‌ و نجوم ادب سے جسے سلام کریںGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  38. سب کچھ تو زندگی کی متاع سفر میں ہےجب تم نظر میں ہو تو زمانہ نظر میں ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  39. غرور جلوۂ عرفاں ہے دیکھیے کیا ہوبڑے اندھیرے میں انساں ہے دیکھیے کیا ہوGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  40. غرور ناز دکھا تجھ میں کتنا جوہر ہےمرا خلوص بھی دریا نہیں سمندر ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  41. منتشر شہزاد گان دل کا شیرازہ نہ ہوکاش یاروں کی ہنسی فتنوں کا غمازہ نہ ہوGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  42. نہ ہوتے شاد آئین گلستاں دیکھنے والےفسانہ بھی اگر پڑھ لیتے عنواں دیکھنے والےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  43. وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہےظلمت شب میں چراغ آسا دمیدہ کون ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  44. ہر چند ابھی خود پر ظاہر میں اور مرے احباب نہیںیاروں پہ فدا ہونے والے کم یاب سہی نایاب نہیںGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  45. آخر وہ اضطراب کے دن بھی گزر گئےجب دل حریف آتش قہر و عتاب تھاVaris Kirmani (1927–2012)
  46. اجڑ کے گھر سے سر راہ آ کے بیٹھے ہیںہم اپنی ضد میں سبھی کچھ گنوا کے بیٹھے ہیںVaris Kirmani (1927–2012)
  47. اے صبا نکہت‌ گیسوۓ معنبر لاناکوئی تحفہ گل‌ و نسرین سے خوشتر لاناVaris Kirmani (1927–2012)
  48. بہت دنوں میں ہم ان سے جو ہم کلام ہوئےدل و نظر ہمہ تن سجدہ و سلام ہوئےVaris Kirmani (1927–2012)
  49. جمال نسترنی رنگ و بوئے یاسمنیگلوں نے سیکھ لیا تم سے ذوق پیرہنیVaris Kirmani (1927–2012)
  50. جی میں ہے اک دن جھوم کر اس شوخ کو سجدہ کروںسجدے سے پھر اللہ تک اک راستہ پیدا کروںVaris Kirmani (1927–2012)