Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- بیتی ہے یہ سب دل پہ ہے سب دل کی زبانیہجراں کی جو دلبر سے میں کہتا ہوں کہانیعشق اورنگ آبادی
- اے دل نہ عقیدہ ہے دوا پر نہ دعا پرکم بخت تجھے چھوڑ دیا ہم نے خدا پرصفی اورنگ آبادی
- چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھوکس درد کو کہتے ہیں وفا تم بھی تو دیکھوBashar Nawaz
- یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میںجس حسن سے ہے چاند رواں نیل گگن میںBashar Nawaz
- چاہت مری مٹی میں عجب چھوڑ گیا ہےدل جل کے بھی خاشاک طلب چھوڑ گیا ہےIdris Azad
- ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتاارمان تڑپتے ہیں کہ قاتل نہیں ملتاکشن کمار وقار
- تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنامیں دیکھ رہا ہوں مجھے اندھا نہ سمجھنارند لکھنوی
- دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتاکیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتارند لکھنوی
- آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھاگھبرا کے جو دم آج نکل جائے تو اچھارند لکھنوی
- چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہلاشے ہی نکلتے رہے دو چار ہمیشہرند لکھنوی
- اس جسم کی ہے پانچ عناصر سے بناوٹعقل و دل و پندار کی ساری ہے بناوٹساحر دہلوی
- تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموشیہ بھول نہیں ہوتی مری جان فراموشمبارک عظیم آبادی
- دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہےکچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہےمبارک عظیم آبادی
- کہتے ہیں کہ دے میری بلا داد کسی کیکانوں کو مزہ دیتی ہے فریاد کسی کیمبارک عظیم آبادی
- کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووےہے طور سے کیا کام جو دیدار نہ ہووےانعام اللہ خاں یقین
- انسان ہوس پیشہ سے کیا ہو نہیں سکتامجبور ہے اس سے کہ خدا ہو نہیں سکتاقربان علی سالک بیگ
- گرمی کی چھٹیاںافسر میرٹھی
- یہ ہستئ دل اس پہ یہ طوفان تمنااللہ رے اے جوش فراوان تمناافسر میرٹھی
- اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتےارمان مرے جی کے نکلنے نہیں دیتےزین العابدین خاں عارف
- تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاریتقدیر مری ہو گئی تدبیر تمہاریزین العابدین خاں عارف
- کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نےاس کی نہ دکھائی مجھے تصویر کسی نےزین العابدین خاں عارف
- مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گےہم جینے کو اپنے یہ مصیبت نہ کریں گےزین العابدین خاں عارف
- ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتالیکن ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتازین العابدین خاں عارف
- اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیاجو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیاباقی صدیقی
- تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوںچھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوںباقی صدیقی
- دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہےپہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہےباقی صدیقی
- تیزی ترے مژگاں کی یہ نشتر سے کہوں گاابرو کی شکایت دم خنجر سے کہوں گاعلیم اللہ
- دم بھر جو نہ دیکھے تجھے اے رشک پری آنکھمژگاں کی زبانوں سے کرے نوحہ گری آنکھخواجہ محمد وزیر
- ہر عضو مسافر ہے نہیں کچھ سفری آنکھہے آخر شب عمر چراغ سحری آنکھخواجہ محمد وزیر
- پوچھو گے تو کھل جائے گی زخموں کی زباں اورپرشش تو گزرتی ہے غم دل پہ گراں اورR P Shokh
- ماتھے پہ پڑی زلف گرہ گیر ہلا دیکیوں تم نے دل خفتہ کی زنجیر ہلا دیR P Shokh
- مشکل میں رہا وہ بھی کہ تدبیر نہ تھا میںمیں خواب تو تھا اس کا پہ تعبیر نہ تھا میںR P Shokh
- شکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیںہجرت ہوئی ہے یوں کہ کسی گھر کے نہیں ہیںAabid Jafri
- دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایاسب دیکھے دل آزار ہی دل دار نہ پایامرزا جواں بخت جہاں دار
- اب دل میں وہ رعنائیٔ احساس نہیں ہےکس پھول میں ورنہ تری بو باس نہیں ہےBadr Shamsi
- پیمان وفا توڑ کے جانے کے لئے آآ دل کی لگی اور بڑھانے کے لئے آBadr Shamsi
- تصویر مسرت ہے کہ غم کھوئے ہوئے ہیںکچھ اشک سر دیدۂ نم کھوئے ہوئے ہیںBadr Shamsi
- جو چاند کو آغوش میں لینے پہ اڑا تھاہر چند وہ بچہ تھا مگر دل کا بڑا تھاBadr Shamsi
- موسیٰ ہیں ہمیں جلوۂ دیدار ہمیں ہیںہیں طور ہمیں نور ہمیں نار ہمیں ہیںشاہ اکبر داناپوری
- ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخصآنکھوں میں لیے بیٹھا ہے مے خانہ سا اک شخصاختر انصاری اکبرآبادی
- دل سنگ نہیں ہے کہ ستم گر نہ بھر آتاکرتے نہ اگر ضبط تو منہ تک جگر آتاامداد امام اثر
- کب غیر ہوا محو تری جلوہ گری کاتو پوچھ مرے دل سے مزہ بے خبری کاامداد امام اثر
- تنہائی میں آج ان سے ملاقات ہوئی ہےجس بات کی خواہش تھی وہی بات ہوئی ہےCharkh Chinioti
- استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیاحاصل بھی نہیں روزن درکار کہوں کیاEjaz Gul
- در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہریہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہرEjaz Gul
- دشوار ہے اب راستا آسان سے آگےرکھ عمر کہن پچھلا قدم دھیان سے آگےEjaz Gul
- گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنایاں سب کو ہے ناکامیٔ یک گام میں رہناEjaz Gul
- امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنایوں مجھ پہ ستم اے دل سفاک نہ کرناBaharunnisa Bahar
- فریاد صدائے نفس آواز جرس ہےکیا قافلۂ عمر کوں چلنے کا ہوس ہےداؤد اورنگ آبادی
- جو اصل ہے میری وہی پوشاک پہن لوںسب کھیل ہوئے ختم چلوں خاک پہن لوںEhtisham ul Haq Siddiqui