Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Salim
ہزج مثمن اخرب سالم- مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جاٹک مہر کے پانی سوں تو آگ بجھاتی جاWali Dakani (1667–1707)
- تو دیکھ اسے سب جا آنکھوں کے اٹھا پردےمانند سویدا کے دل بیچ اسے گھر دےShah Hatim (1699–1783)
- تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویالذت کو اسیری کی کر یاد بہت رویاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویاراتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تو کون ہے اے واعظ جو مجھ کو ڈراتا ہےمیں کی بھی ہیں تو کی ہیں اللہ کی تقصیریںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیںاس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئیشاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھاان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- مژگاں وہ جھپکتا ہے اب تیر ہے اور میں ہوںسر پاؤں سے چھدنے کی تصویر ہے اور میں ہوںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- آتا ہے یہی جی میں فریاد کروں روؤںرونے ہی سے ٹک اپنا دل شاد کروں روؤںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتااس دل کے تئیں ہرگز آرام نہیں ہوتاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کھا لیتے ہیں غصے میں تلوار کٹاری کیاہم لوگ ہیں سودائی اوقات ہماری کیاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ہر چند کہ بات اپنی کب لطف سے خالی ہےپر یار نہ سمجھیں تو یہ بات نرالی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- مل خون جگر میرا ہاتھوں سے حنا سمجھےمیں اور تو کیا کوسوں پر تم سے خدا سمجھےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہےہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- زندانِ تحّمل ہیں مہمانِ تغافل ہیںبے فائدہ یاروں کو فرقِ غم و شادی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سےکیا طرفہ تمنّا ہے امیدِ کرم تجھ سےMirza Ghalib (1797–1869)
- بے تابیٔ یادِ دوست ہم رنگِ تسلی ہےغافل تپشِ مجنوں محمل کشِ لیلی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- دریوزۂ ساماں ہا اے بے سر و سامانیایجادِ گریباں ہا در پردۂ عریانیMirza Ghalib (1797–1869)
- ہر چند کہ دیکھے ہے وہ پیار کی آنکھوں سےپر نکلے ہے بے رنگی اس پار کی آنکھوں سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میںکیا خوب گزرتی ہے اوقات جدائی میںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتاقسمت میں نہ ملنا تھا ملتے بھی تو کیا ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ہے لطف تغافل میں یا جی کے جلانے میںوعدہ تو کیا ہوتا گو وہ نہ وفا ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہےڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اس حسن کا شیدا ہوں اس حسن کا دیوانہہر گل ہے جہاں بلبل ہر شمع ہے پروانہRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیںاللہ رے ظالم کی مظلوم نما آنکھیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینااک بار نہیں اس کو سو بار سمجھ لیناHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہےمجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہےZarif Lakhnavi (1870–1937)
- دعاAllama Iqbal (1877–1938)
- پھر بادِ بہار آئی، اقبالؔ غزل خواں ہوغنچہ ہے اگر گُل ہو، گُل ہے تو گُلستاں ہوAllama Iqbal (1877–1938)
- اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانیہے دانشِ بُرہانی، حیرت کی فراوانیAllama Iqbal (1877–1938)
- یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیزاندیشۂ دانا کو کرتا ہے جُنوں آمیزAllama Iqbal (1877–1938)
- یہ دَیرِ کُہن کیا ہے، انبارِ خس و خاشاکمشکل ہے گزر اس میں بے نالۂ آتش ناکAllama Iqbal (1877–1938)
- افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخرکرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخرAllama Iqbal (1877–1938)
- کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازیگُستاخ ہے، کرتا ہے فطرت کی حِنابندیAllama Iqbal (1877–1938)
- لالہ صحراAllama Iqbal (1877–1938)
- فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانییا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانیAllama Iqbal (1877–1938)
- جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالیدنیا مری راحت کی قسمت نے مٹا ڈالیFani Badayuni (1879–1941)
- ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتےمجبور غم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتےFani Badayuni (1879–1941)
- بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتےکرتے تو ہم اپنا ہی کچھ تم سے گلہ کرتےFani Badayuni (1879–1941)
- لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہےاے حسن حجاب آرا کس نے تجھے دیکھا ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہےذروں کو اٹھانا ہے تاروں سے ملانا ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھوآئینے کی ہستی کیا تم اپنی طرف دیکھوAziz Lakhnavi (1882–1935)
- آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہےجب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- مطلب کا زمانہ ہے نادرؔ کوئی کیا دے گامجھ سوختۂ قسمت کو دے گا تو خدا دے گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکناب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤںHadi Machlishahri (1890–1961)
- چھوڑ آتے ہیں ہر جانب کچھ نقش وفا اپنےہم زیست کی راہوں سے جس وقت گزرتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل ٹوٹ کے ہی آخر بنتا ہے کسی قابلتخریب کے پردے میں تعمیر نظر آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ہیں سب یہ ترے شکوے کوتاہیٔ الفت سےکچھ دل کی تڑپ کم ہے کچھ خام تمنا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کیا آنکھ ملاؤ گے تم دیکھنے والوں سےرہتے ہو اندھیروں میں ڈرتے ہو اجالوں سےFaiyaz Gwaliari (1906–1980)