Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Salim

ہزج مثمن اخرب سالم
Poet
Meter
Clear
  1. مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جاٹک مہر کے پانی سوں تو آگ بجھاتی جاWali Dakani (1667–1707)
  2. تو دیکھ اسے سب جا آنکھوں کے اٹھا پردےمانند سویدا کے دل بیچ اسے گھر دےShah Hatim (1699–1783)
  3. تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویالذت کو اسیری کی کر یاد بہت رویاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  4. میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویاراتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  5. تو کون ہے اے واعظ جو مجھ کو ڈراتا ہےمیں کی بھی ہیں تو کی ہیں اللہ کی تقصیریںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  6. جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیںاس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  7. کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئیشاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئیMir Taqi Mir (1723–1810)
  8. کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھاان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھاMir Taqi Mir (1723–1810)
  9. مژگاں وہ جھپکتا ہے اب تیر ہے اور میں ہوںسر پاؤں سے چھدنے کی تصویر ہے اور میں ہوںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  10. آتا ہے یہی جی میں فریاد کروں روؤںرونے ہی سے ٹک اپنا دل شاد کروں روؤںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  11. جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتااس دل کے تئیں ہرگز آرام نہیں ہوتاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  12. کھا لیتے ہیں غصے میں تلوار کٹاری کیاہم لوگ ہیں سودائی اوقات ہماری کیاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  13. ہر چند کہ بات اپنی کب لطف سے خالی ہےپر یار نہ سمجھیں تو یہ بات نرالی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  14. مل خون جگر میرا ہاتھوں سے حنا سمجھےمیں اور تو کیا کوسوں پر تم سے خدا سمجھےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  15. گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہےہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  16. زندانِ تحّمل ہیں مہمانِ تغافل ہیںبے فائدہ یاروں کو فرقِ غم و شادی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  17. اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سےکیا طرفہ تمنّا ہے امیدِ کرم تجھ سےMirza Ghalib (1797–1869)
  18. بے تابیٔ یادِ دوست ہم رنگِ تسلی ہےغافل تپشِ مجنوں محمل کشِ لیلی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  19. دریوزۂ ساماں ہا اے بے سر و سامانیایجادِ گریباں ہا در پردۂ عریانیMirza Ghalib (1797–1869)
  20. ہر چند کہ دیکھے ہے وہ پیار کی آنکھوں سےپر نکلے ہے بے رنگی اس پار کی آنکھوں سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  21. تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میںکیا خوب گزرتی ہے اوقات جدائی میںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  22. کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتاقسمت میں نہ ملنا تھا ملتے بھی تو کیا ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  23. ہے لطف تغافل میں یا جی کے جلانے میںوعدہ تو کیا ہوتا گو وہ نہ وفا ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  24. ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہےڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  25. اس حسن کا شیدا ہوں اس حسن کا دیوانہہر گل ہے جہاں بلبل ہر شمع ہے پروانہRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  26. ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیںاللہ رے ظالم کی مظلوم نما آنکھیںBekhud Badayuni (1857–1912)
  27. کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینااک بار نہیں اس کو سو بار سمجھ لیناHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  28. وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہےمجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہےZarif Lakhnavi (1870–1937)
  29. دعاAllama Iqbal (1877–1938)
  30. پھر بادِ بہار آئی، اقبالؔ غزل خواں ہوغنچہ ہے اگر گُل ہو، گُل ہے تو گُلستاں ہوAllama Iqbal (1877–1938)
  31. اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانیہے دانشِ بُرہانی، حیرت کی فراوانیAllama Iqbal (1877–1938)
  32. یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیزاندیشۂ دانا کو کرتا ہے جُنوں آمیزAllama Iqbal (1877–1938)
  33. یہ دَیرِ کُہن کیا ہے، انبارِ خس و خاشاکمشکل ہے گزر اس میں بے نالۂ آتش ناکAllama Iqbal (1877–1938)
  34. افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخرکرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخرAllama Iqbal (1877–1938)
  35. کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازیگُستاخ ہے، کرتا ہے فطرت کی حِنابندیAllama Iqbal (1877–1938)
  36. لالہ صحراAllama Iqbal (1877–1938)
  37. فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانییا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانیAllama Iqbal (1877–1938)
  38. جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالیدنیا مری راحت کی قسمت نے مٹا ڈالیFani Badayuni (1879–1941)
  39. ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتےمجبور غم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتےFani Badayuni (1879–1941)
  40. بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتےکرتے تو ہم اپنا ہی کچھ تم سے گلہ کرتےFani Badayuni (1879–1941)
  41. لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہےاے حسن حجاب آرا کس نے تجھے دیکھا ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  42. یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہےذروں کو اٹھانا ہے تاروں سے ملانا ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  43. بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھوآئینے کی ہستی کیا تم اپنی طرف دیکھوAziz Lakhnavi (1882–1935)
  44. آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہےجب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  45. مطلب کا زمانہ ہے نادرؔ کوئی کیا دے گامجھ سوختۂ قسمت کو دے گا تو خدا دے گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  46. اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکناب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤںHadi Machlishahri (1890–1961)
  47. چھوڑ آتے ہیں ہر جانب کچھ نقش وفا اپنےہم زیست کی راہوں سے جس وقت گزرتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  48. دل ٹوٹ کے ہی آخر بنتا ہے کسی قابلتخریب کے پردے میں تعمیر نظر آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  49. ہیں سب یہ ترے شکوے کوتاہیٔ الفت سےکچھ دل کی تڑپ کم ہے کچھ خام تمنا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  50. کیا آنکھ ملاؤ گے تم دیکھنے والوں سےرہتے ہو اندھیروں میں ڈرتے ہو اجالوں سےFaiyaz Gwaliari (1906–1980)