کیا آنکھ ملاؤ گے تم دیکھنے والوں سے

Faiyaz Gwaliari (1906–1980)

کیا آنکھ ملاؤ گے تم دیکھنے والوں سے

رہتے ہو اندھیروں میں ڈرتے ہو اجالوں سے

بکھری ہوئی زلفیں ہیں یا میرؔ کی غزلیں ہیں

قدر ان کی کوئی پوچھے آشفتہ خیالوں سے

کس پیار سے ملتے ہیں ناقوس و اذاں دونوں

کس جنم کا ناتا ہے مسجد کا شوالوں سے

اسلام مسیحائی رب ارنی گیتا

کیا کچھ نہیں پایا ہے دنیا نے گوالوں سے

دو بوند ہی کام آئیں تپتے ہوئے صحرا کی

کچھ آنکھ سے ٹپکا دو کچھ پاؤں کے چھالوں سے

فیاضؔ وہ پوچھیں تو تکلیف تجھے کیا ہے

ہم دیں گے جواب ان کو کچھ اور سوالوں سے