Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- مجھ خانماں خراب سے آگے کی چیز ہےدنیا کسی عذاب سے آگے کی چیز ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- پردہ تمہارے رخ سے ہٹانا پڑا مجھےیوں اپنی حسرتوں کو جگانا پڑا مجھےFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)
- پہلی نگاہ میں ہی وہ دل میں اتر گیاپھر اس کے بعد دل میں جو کچھ تھا بکھر گیاFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)
- میں کر نہ پایا ضبط زبس چیختا رہاجب آئی مجھ کو یاد قفس چیختا رہاFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)
- وہ ہم سے ملنے کے لیے آئے نہیں کبھیہم نے بھی راگ عشق کی چھیڑے نہیں کبھیFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)
- پہلے تو اپنے حسن سے گھایل کیا مجھےمرہم لگا کے بعد میں پاگل کیا مجھےLankesh Gautam (b. 2003)
- جیسے ہی اس نے پوچھا کہ رشتہ قبول ہےیک دم مری زبان سے نکلا قبول ہےLankesh Gautam (b. 2003)
- دیمک تیرے فراق کی کھاتی رہی مجھےرہ رہ کے تیری یاد ستاتی رہی مجھےLankesh Gautam (b. 2003)
- اچھا ہوا کہ میرا نشہ بھی اتر گیاتیری کلائی سے یہ کڑا بھی اتر گیاMunawwar Rana
- اچھی سے اچھی آب و ہوا کے بغیر بھیزندہ ہیں کتنے لوگ دوا کے بغیر بھیMunawwar Rana
- پھر سے بدل کے مٹی کی صورت کرو مجھےعزت کے ساتھ دنیا سے رخصت کرو مجھےMunawwar Rana
- دریا دلی سے ابر کرم بھی نہیں ملالیکن مجھے نصیب سے کم بھی نہیں ملاMunawwar Rana
- دہرا رہا ہوں بات پرانی کہی ہوئیتصویر تیرے گھر میں تھی میری لگی ہوئیMunawwar Rana
- صحرا پسند ہو کے سمٹنے لگا ہوں میںاندر سے لگ رہا ہے کہ بٹنے لگا ہوں میںMunawwar Rana
- محفل میں آج مرثیہ خوانی ہی کیوں نہ ہوآنکھوں سے بہنے دیجیے پانی ہی کیوں نہ ہوMunawwar Rana
- یہ سر بلند ہوتے ہی شانے سے کٹ گیامیں محترم ہوا تو زمانے سے کٹ گیاMunawwar Rana
- چہرے تمام دھندلے نظر آ رہے ہیں کیوںکیوں خواب رتجگوں کی حویلی میں دب گئےMunawwar Rana
- بچوں کی فیس ان کی کتابیں قلم دواتمیری غریب آنکھوں میں اسکول چبھ گیاMunawwar Rana
- برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگرماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہےMunawwar Rana
- پھر کربلا کے بعد دکھائی نہیں دیاایسا کوئی بھی شخص کہ پیاسا کہیں جسےMunawwar Rana
- پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیںاب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیںSaleem Kausar
- دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہوتم دوست ہو تو کیوں نہیں مشکل سمجھتے ہوSaleem Kausar
- ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بستم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بسSaleem Kausar
- سائے گلی میں جاگتے رہتے ہیں رات بھرتنہائیوں کی اوٹ سے جھانکا نہ کر مجھےSaleem Kausar
- ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہمہنستے رہیں گے شور مچاتے رہیں گے ہمAhmad Mushtaq
- پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہےیہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہےAhmad Mushtaq
- تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھاجانے وہ کس خیال میں تھا کس سمے میں تھاAhmad Mushtaq
- شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیاہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیاAhmad Mushtaq
- ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہےشاید کسی کی چہرہ نمائی کا وقت ہےAhmad Mushtaq
- حالت تو دیکھ لی مری چشم پر آب کیساقی نہیں ہوس مجھے جام شراب کیجمیلہ خدا بخش
- دیتا ہوں دل جسے وہ کہیں بے وفا نہ ہویہ عشق میرے واسطے شاید قضا نہ ہوجمیلہ خدا بخش
- زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہایہ برہمن ہے صاحب ایماں نہیں رہاجمیلہ خدا بخش
- عشق بتاں کا جب سے مجھے ڈھنگ آ گیاہاتھوں سے میرے دست جنوں تنگ آ گیاجمیلہ خدا بخش
- کیسی ہے آہ اپنی طبیعت بھری ہوئیآنکھوں میں اشک اشک میں حسرت بھری ہوئیجمیلہ خدا بخش
- سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیںغافل اگر نہیں ہوں تو ہشیار بھی نہیںHabeeb Moosavi
- دل میں بھری ہے خاک میں ملنے کی آرزوخاکستری ہوا ہے ہماری قبا کا رنگHabeeb Moosavi
- رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میںHabeeb Moosavi
- غربت بس اب طریق محبت کو قطع کرمدت ہوئی ہے اہل وطن سے جدا ہوئےHabeeb Moosavi
- قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیںناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئےHabeeb Moosavi
- ناصح یہ وعظ و پند ہے بے کار جائے گاہم سے بھی بادہ کش ہیں کہیں پارسا ہوئےHabeeb Moosavi
- کب سے پہنچ گیا ہوں میں اس شخص کے قریبکہتی ہے پھر بھی اس کی نظر راستے میں ہوںBadr Muneer
- گو حرف و اشک دونوں تھے سامان گفتگوپھر بھی ہماری بات میں ابہام رہ گیاBadr Muneer
- رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیااب اختتام باب ضروری سا ہو گیاAitbar Sajid
- کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہایہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہاAitbar Sajid
- محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مریسب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مریAitbar Sajid
- ان دوریوں نے اور بڑھا دی ہیں قربتیںسب فاصلے وبا کی طوالت سے مٹ گئےAitbar Sajid
- اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہممقتل کی سمت جیسے سفر کر رہے ہیں ہمFaheem Jogapuri
- بے رنگ و نور چاند ہے یوں آسمان میںبھوکا فقیر جیسے خدا کے دھیان میںFaheem Jogapuri
- جس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیادنیا کو اس فقیر نے ٹھوکر میں رکھ لیاFaheem Jogapuri
- خود پی سکی نہ جب تو زمیں کو پلا گئیاک دودھ کے گلاس کو بلی گرا گئیFaheem Jogapuri