یہ سر بلند ہوتے ہی شانے سے کٹ گیا

Munawwar Rana

یہ سر بلند ہوتے ہی شانے سے کٹ گیا

میں محترم ہوا تو زمانے سے کٹ گیا

ماں آج مجھ کو چھوڑ کے گاؤں چلی گئی

میں آج اپنے آئینہ خانے سے کٹ گیا

جوڑے کی شان بڑھ گئی محفل مہک اٹھی

لیکن یہ پھول اپنے گھرانے سے کٹ گیا

اے آنسوؤ تمہاری ضرورت ہے اب مجھے

کچھ میل تو بدن کا نہانے سے کٹ گیا

اس پیڑ سے کسی کو شکایت نہ تھی مگر

یہ پیڑ صرف بیچ میں آنے سے کٹ گیا

ورنہ وہی اجاڑ حویلی سی زندگی

تم آ گئے تو وقت ٹھکانے سے کٹ گیا