محفل میں آج مرثیہ خوانی ہی کیوں نہ ہو

Munawwar Rana

محفل میں آج مرثیہ خوانی ہی کیوں نہ ہو

آنکھوں سے بہنے دیجیے پانی ہی کیوں نہ ہو

نشے کا اہتمام سے رشتہ نہیں کوئی

پیغام اس کا آئے زبانی ہی کیوں نہ ہو

ایسے یہ غم کی رات گزرنا محال ہے

کچھ بھی سنا مجھے وہ کہانی ہی کیوں نہ ہو

کوئی بھی ساتھ دیتا نہیں عمر بھر یہاں

کچھ دن رہے گی ساتھ جوانی ہی کیوں نہ ہو

اس تشنگی کی قید سے جیسے بھی ہو نکال

پینے کو کچھ بھی چاہیے پانی ہی کیوں نہ ہو

دنیا بھی جیسے تاش کے پتوں کا کھیل ہے

جوکر کے ساتھ رہتی ہے رانی ہی کیوں نہ ہو

تصویر اس کی چاہیے ہر حال میں مجھے

پاگل ہو سر پھری ہو دوانی ہی کیوں نہ ہو

سونا تو یار سونا ہے چاہے جہاں رہے

بیوی ہے پھر بھی بیوی پرانی ہی کیوں نہ ہو

اب اپنے گھر میں رہنے نہ دیں گے کسی کو ہم

دل سے نکال دیں گے نشانی ہی کیوں نہ ہو