Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- گردش میں ہے زمین بھی کیا آسماں کے ساتھدنیا بدل گئی نگہ مہرباں کے ساتھBaldev Raaj (b. 1924)
- میں جی رہا ہوں تیرا سہارا لیے بغیریہ زہر پی رہا ہوں گوارا کئے بغیرBaldev Raaj (b. 1924)
- تم ہو کہ مدتوں میں بھی میرے نہ ہو سکےمیں ہوں کہ ایک بات میں دیوانہ ہو گیاBaldev Raaj (b. 1924)
- یا رب دل و نظر پہ مسلط کبھی نہ ہووہ بے خودی کہ جس میں شعور خودی نہ ہوGauhar Usmani (1924–2004)
- اب تو دراز ایک بھی دست دعا نہیںسب ہیں خدا یہاں پہ کوئی نا خدا نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
- وہ ہنس پڑا جنوں یہ مچلنے لگی حیاتہاں ہاں یہی ادا یہی انداز التفاتIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
- ہم اہل آرزو پہ عجب وقت آ پڑاہر ہر قدم پہ کھیل نیا کھیلنا پڑاHabeeb Hyderabadi (1924–1989)
- آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہووہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہوNasir Kazmi (1925–1972)
- کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیںآئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیںNasir Kazmi (1925–1972)
- ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھیبرہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھیNasir Kazmi (1925–1972)
- دکھ بھی سہے الم بھی سہے رنج بھی سہےپھر بھی بشر خدا کو خدا مانتا رہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- رکھئے زبان خار ہماری زباں کے ساتھاس کا بیاں ملے گا ہمارے بیاں کے ساتھOm Krishn Rahat (b. 1925)
- کوئی تو اس کا اہل ہو یہ جام کس کو دیںدو گھونٹ بچ گئی تھی جو کل شام کس کو دیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
- ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجودکعبہ پہنچ گیا ہوں بھٹکنے کے باوجودOm Krishn Rahat (b. 1925)
- برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھےسورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھےQaisarul Jafri (1926–2005)
- پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہودنیا پڑی ہے گھر سے شروعات بھی تو ہوQaisarul Jafri (1926–2005)
- تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہممل بھی لئے کسی سے تو جی سے ملے نہ ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
- دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھامیں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاںلو دل کی راکھ چھوڑ کے ہم بھی چلے میاںQaisarul Jafri (1926–2005)
- بدلی سی اپنی آنکھوں میں چھائی ہوئی سی ہےبھولی ہوئی سی یاد پھر آئی ہوئی سی ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہےہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- ہم کو تو بے سوال ملے بے طلب ملےہم وہ نہیں ہیں ساقی کہ جب مانگیں تب ملےKaleem Aajiz (1926–2015)
- فن میں نہ معجزہ نہ کرامات چاہئےدل کو لگے بس ایسی کوئی بات چاہئےKaleem Aajiz (1926–2015)
- بلبل کہیں ہے پھول کہیں باغباں کہیںاللہ پھر دکھائے نہ ایسا سماں کہیںSaadat Nazeer (b. 1926)
- اٹھو قدم قدم سے ملاتے چلے چلوسب مل کے ایک راہ بناتے چلے چلوSaadat Nazeer (b. 1926)
- آخر وہ اضطراب کے دن بھی گزر گئےجب دل حریف آتش قہر و عتاب تھاVaris Kirmani (1927–2012)
- نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میںآنکھیں برس رہی ہیں غم انتظار میںB S Jain Jauhar (b. 1927)
- اس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیااک اور شہر یار میں آنے نہیں دیاMunir Niazi (1928–2006)
- اس شہر سنگ دل کو جلا دینا چاہئےپھر اس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہئےMunir Niazi (1928–2006)
- اس شہر کے یہیں کہیں ہونے کا رنگ ہےاس خاک میں کہیں کہیں سونے کا رنگ ہےMunir Niazi (1928–2006)
- اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستواس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستوMunir Niazi (1928–2006)
- اک تیز تیر تھا کہ لگا اور نکل گیاماری جو چیخ ریل نے جنگل دہل گیاMunir Niazi (1928–2006)
- بے گانگی کا ابر گراں بار کھل گیاشب میں نے اس کو چھیڑا تو وہ یار کھل گیاMunir Niazi (1928–2006)
- پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھاوہ اس کا سایہ تھا کہ وہی رشک حور تھاMunir Niazi (1928–2006)
- تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملیان بستیوں میں ہم کو رفاقت نہیں ملیMunir Niazi (1928–2006)
- خواب و خیال گل سے کدھر جائے آدمیاک گلشن ہوا ہے جدھر جائے آدمیMunir Niazi (1928–2006)
- دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ گر رہاجب تک رہا میں ساتھ مرے یہ ہنر رہاMunir Niazi (1928–2006)
- دل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیںاتنا خیال اس کا ہمیں اس برس نہیںMunir Niazi (1928–2006)
- دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہےکہنے کو اپنے دل سے کوئی داستاں تو ہےMunir Niazi (1928–2006)
- رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوااتنا میں چپ ہوا کہ تماشا نہیں ہواMunir Niazi (1928–2006)
- رہتا ہے اک ہر اس سا قدموں کے ساتھ ساتھچلتا ہے دشت دشت نوردوں کے ساتھ ساتھMunir Niazi (1928–2006)
- زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیادنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیاMunir Niazi (1928–2006)
- سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیںان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیںMunir Niazi (1928–2006)
- غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوابارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہواMunir Niazi (1928–2006)
- اے شہر بے مثال ترے بام و در کی خیراے حسن لا زوال ترے بام و در کی خیرMunir Niazi (1928–2006)
- جب بن سیاہ رات کے تاروں سے بھر گئےکنج چمن میں چمکے شگوفے نئے نئےMunir Niazi (1928–2006)
- سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئےپیڑوں کی ڈالیوں سے تماشے جھڑے ہوئےMunir Niazi (1928–2006)
- کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مرییہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھےMunir Niazi (1928–2006)
- وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دنوہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دنMunir Niazi (1928–2006)
- اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔمیری طرح وفا کا پرستار مصحفیؔHabib Jalib (1928–1993)