Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. گردش میں ہے زمین بھی کیا آسماں کے ساتھدنیا بدل گئی نگہ مہرباں کے ساتھBaldev Raaj (b. 1924)
  2. میں جی رہا ہوں تیرا سہارا لیے بغیریہ زہر پی رہا ہوں گوارا کئے بغیرBaldev Raaj (b. 1924)
  3. تم ہو کہ مدتوں میں بھی میرے نہ ہو سکےمیں ہوں کہ ایک بات میں دیوانہ ہو گیاBaldev Raaj (b. 1924)
  4. یا رب دل و نظر پہ مسلط کبھی نہ ہووہ بے خودی کہ جس میں شعور خودی نہ ہوGauhar Usmani (1924–2004)
  5. اب تو دراز ایک بھی دست دعا نہیںسب ہیں خدا یہاں پہ کوئی نا خدا نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
  6. وہ ہنس پڑا جنوں یہ مچلنے لگی حیاتہاں ہاں یہی ادا یہی انداز التفاتIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
  7. ہم اہل آرزو پہ عجب وقت آ پڑاہر ہر قدم پہ کھیل نیا کھیلنا پڑاHabeeb Hyderabadi (1924–1989)
  8. آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہووہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہوNasir Kazmi (1925–1972)
  9. کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیںآئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیںNasir Kazmi (1925–1972)
  10. ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھیبرہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھیNasir Kazmi (1925–1972)
  11. دکھ بھی سہے الم بھی سہے رنج بھی سہےپھر بھی بشر خدا کو خدا مانتا رہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  12. رکھئے زبان خار ہماری زباں کے ساتھاس کا بیاں ملے گا ہمارے بیاں کے ساتھOm Krishn Rahat (b. 1925)
  13. کوئی تو اس کا اہل ہو یہ جام کس کو دیںدو گھونٹ بچ گئی تھی جو کل شام کس کو دیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  14. ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجودکعبہ پہنچ گیا ہوں بھٹکنے کے باوجودOm Krishn Rahat (b. 1925)
  15. برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھےسورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھےQaisarul Jafri (1926–2005)
  16. پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہودنیا پڑی ہے گھر سے شروعات بھی تو ہوQaisarul Jafri (1926–2005)
  17. تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہممل بھی لئے کسی سے تو جی سے ملے نہ ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
  18. دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھامیں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  19. ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاںلو دل کی راکھ چھوڑ کے ہم بھی چلے میاںQaisarul Jafri (1926–2005)
  20. بدلی سی اپنی آنکھوں میں چھائی ہوئی سی ہےبھولی ہوئی سی یاد پھر آئی ہوئی سی ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  21. تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہےہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  22. ہم کو تو بے سوال ملے بے طلب ملےہم وہ نہیں ہیں ساقی کہ جب مانگیں تب ملےKaleem Aajiz (1926–2015)
  23. فن میں نہ معجزہ نہ کرامات چاہئےدل کو لگے بس ایسی کوئی بات چاہئےKaleem Aajiz (1926–2015)
  24. بلبل کہیں ہے پھول کہیں باغباں کہیںاللہ پھر دکھائے نہ ایسا سماں کہیںSaadat Nazeer (b. 1926)
  25. اٹھو قدم قدم سے ملاتے چلے چلوسب مل کے ایک راہ بناتے چلے چلوSaadat Nazeer (b. 1926)
  26. آخر وہ اضطراب کے دن بھی گزر گئےجب دل حریف آتش قہر و عتاب تھاVaris Kirmani (1927–2012)
  27. نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میںآنکھیں برس رہی ہیں غم انتظار میںB S Jain Jauhar (b. 1927)
  28. اس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیااک اور شہر یار میں آنے نہیں دیاMunir Niazi (1928–2006)
  29. اس شہر سنگ دل کو جلا دینا چاہئےپھر اس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہئےMunir Niazi (1928–2006)
  30. اس شہر کے یہیں کہیں ہونے کا رنگ ہےاس خاک میں کہیں کہیں سونے کا رنگ ہےMunir Niazi (1928–2006)
  31. اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستواس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستوMunir Niazi (1928–2006)
  32. اک تیز تیر تھا کہ لگا اور نکل گیاماری جو چیخ ریل نے جنگل دہل گیاMunir Niazi (1928–2006)
  33. بے گانگی کا ابر گراں بار کھل گیاشب میں نے اس کو چھیڑا تو وہ یار کھل گیاMunir Niazi (1928–2006)
  34. پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھاوہ اس کا سایہ تھا کہ وہی رشک حور تھاMunir Niazi (1928–2006)
  35. تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملیان بستیوں میں ہم کو رفاقت نہیں ملیMunir Niazi (1928–2006)
  36. خواب و خیال گل سے کدھر جائے آدمیاک گلشن ہوا ہے جدھر جائے آدمیMunir Niazi (1928–2006)
  37. دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ گر رہاجب تک رہا میں ساتھ مرے یہ ہنر رہاMunir Niazi (1928–2006)
  38. دل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیںاتنا خیال اس کا ہمیں اس برس نہیںMunir Niazi (1928–2006)
  39. دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہےکہنے کو اپنے دل سے کوئی داستاں تو ہےMunir Niazi (1928–2006)
  40. رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوااتنا میں چپ ہوا کہ تماشا نہیں ہواMunir Niazi (1928–2006)
  41. رہتا ہے اک ہر اس سا قدموں کے ساتھ ساتھچلتا ہے دشت دشت نوردوں کے ساتھ ساتھMunir Niazi (1928–2006)
  42. زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیادنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیاMunir Niazi (1928–2006)
  43. سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیںان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیںMunir Niazi (1928–2006)
  44. غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوابارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہواMunir Niazi (1928–2006)
  45. اے شہر بے مثال ترے بام و در کی خیراے حسن لا زوال ترے بام و در کی خیرMunir Niazi (1928–2006)
  46. جب بن سیاہ رات کے تاروں سے بھر گئےکنج چمن میں چمکے شگوفے نئے نئےMunir Niazi (1928–2006)
  47. سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئےپیڑوں کی ڈالیوں سے تماشے جھڑے ہوئےMunir Niazi (1928–2006)
  48. کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مرییہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھےMunir Niazi (1928–2006)
  49. وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دنوہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دنMunir Niazi (1928–2006)
  50. اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔمیری طرح وفا کا پرستار مصحفیؔHabib Jalib (1928–1993)