ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاں

Qaisarul Jafri (1926–2005)

ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاں

لو دل کی راکھ چھوڑ کے ہم بھی چلے میاں

چاروں طرف سے ٹوٹ رہا ہے ہوا کا شور

بستی میں اک چراغ کہاں تک جلے میاں

اک دوسرے کے قتل میں ہم سب شریک ہیں

پوچھو تو کوئی نام کسی کا نہ لے میاں

دروازہ بند کر کے سلگنا پڑا مجھے

کیوں میرے گھر کی آگ سے بستی جلے میاں

کب تک کھڑے رہو گے درختوں کی آڑ میں

کیا جانے کتنی دیر یہ آندھی چلے میاں

وہ دن گئے کہ رہتے تھے ہم آسمان پر

کٹتی ہے رات ٹوٹی ہوئی چھت تلے میاں

قیصرؔ بھری بہار سے روٹھے رہے بہت

اب فصل جا رہی ہے لگا لو گلے میاں