Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- ہر آدمی کہاں اوج کمال تک پہنچاعروج حد سے بڑھا تو زوال تک پہنچاzafar iqbal zafar (b. 1940)
- جبیں پہ شہر کی لکھ کر فضا اداسی کیبہت ہے خوش کوئی دے کر دعا اداسی کیJafar Sahni (1941–2018)
- ٹپکتے شعلوں کی برسات میں نہاؤں گااب آ گیا ہوں تو اس شہر سے نہ جاؤں گاBadnam Nazar (1941–2023)
- جو جھک کے ملتے تھے جلسوں میں مہرباں کی طرحہوئے ہیں سر پہ مسلط وہ آسماں کی طرحBadnam Nazar (1941–2023)
- حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میںپناہ مانگنے آیا ہوں بے پناہوں میںBadnam Nazar (1941–2023)
- مری نگاہ کی کرنوں سے جب نہا جائےتم اس کو دیکھو تو بس دیکھتے رہا جائےBadnam Nazar (1941–2023)
- بڑھا جو ہاتھ تو دیوار بیچ میں آئیاٹھی نگاہ تو مینار بیچ میں آئیOm Prabhakar (b. 1941)
- جہاں زمیں سے جڑا آسمان دکھتا ہےاسی جگہ مجھے اپنا مکان دکھتا ہےOm Prabhakar (b. 1941)
- کسی زمیں سے کسی آسماں سے آتے ہیںوہ چند لفظ دھڑکتے ہیں جو دلوں کی طرحOm Prabhakar (b. 1941)
- گزر گیا جو نظر سے نظر کا حصہ ہےشجر سے اڑتا پرندہ شجر کا حصہ ہےOm Prabhakar (b. 1941)
- نہیں یہ ضد کہ ہر اک درد تو مرا لے جاجو ہو سکے تو یہ برسوں کا رت جگا لے جاLutf-ur-rahman (b. 1941)
- غم فراق میں جاں لب پہ آئی ہے صاحبیہی تو ساعت مشکل کشائی ہے صاحبZafar Mujeebi (b. 1941)
- کبھی تو نظر کرم مجھ پہ خوب رو کرتےتمام عمر کٹی ان کی آرزو کرتےZafar Mujeebi (b. 1941)
- مری وفا کا نہ سوچا تھا یہ صلہ دے گاسمجھ کے حرف غلط وہ مجھے مٹا دے گاHafeez Betab (b. 1941)
- جو ذہن و دل میں اکٹھا تھا آس کا پانیاسے بھی لے گیا ساتھ اپنے یاس کا پانیZaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)
- خودی کو صبر و تحمل سے آشنا رکھنابڑی ہے بات بڑا دل کا حوصلہ رکھناZaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)
- جھکا سکے نہ مجھے حادثے محبت کےوہی ہوں میں تو وہی سلسلے محبت کےHafeez Shahid (1942–2014)
- کوئی نشانیٔ عہد وصال دے جائےوہ میری عمر مرے ماہ و سال دے جائےHafeez Shahid (1942–2014)
- فلک پہ شام ڈھلے جو چمکنے لگتے ہیںوہ تیری آنکھوں میں آ کر دمکنے لگتے ہیںEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- ملال و حسرت و بیم و رجا بہت کچھ ہےہمارے پاس خدا کا دیا بہت کچھ ہےUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
- نہاں ہے سب سے پہ ہر جا دکھائی دیتا ہےچہار سو ترا جلوہ دکھائی دیتا ہےUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
- انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتےیہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتےIftikhar Arif (b. 1943)
- حریم لفظ میں کس درجہ بے ادب نکلاجسے نجیب سمجھتے تھے کم نسب نکلاIftikhar Arif (b. 1943)
- دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہوکوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہوIftikhar Arif (b. 1943)
- ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میںپھر اس کے بعد مسلسل عذاب آنکھوں میںIftikhar Arif (b. 1943)
- روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہےزمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیاکہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیاIftikhar Arif (b. 1943)
- کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائےبس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائےIftikhar Arif (b. 1943)
- کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیاجہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیاIftikhar Arif (b. 1943)
- مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دےمیں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دےIftikhar Arif (b. 1943)
- ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیںسروں کی فصل جب اتری تھی تب سے واقف ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیںدعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیںIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگاتباہ ہو تو گئے ہیں اب اور کیا ہوگاIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہےیہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- زمین سنگ سے سورج اگانے والے ہاتھکسے خبر تھی کہ اس شہر میں قلم ہوں گےIftikhar Arif (b. 1943)
- کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میںعجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میںIftikhar Arif (b. 1943)
- وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھیاسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھاIftikhar Arif (b. 1943)
- وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصلنئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھاIftikhar Arif (b. 1943)
- ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میںہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیںKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- بدلتی رت پہ ہواؤں کے سخت پہرے تھےلہو لہو تھی نظر داغ داغ چہرے تھےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- گھرے ہیں چاروں طرف بیکسی کے بادل پھرسلگ رہا ہے ستاروں بھرا اک آنچل پھرRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھاگھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ہوائے صبح نمو دشمن چمن کیسےشکار رشک و رقابت گل و سمن کیسےYaqoob Rahi (b. 1943)
- مجھے شراب پلائی گئی ہے آنکھوں سےمرا نشہ تو ہزاروں برس میں اترے گاVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- چراغ دل کا تھا روشن بجھا گیا پانیکہ بن کے سیل بلا گھر میں آ گیا پانیEhtisham Akhtar (b. 1944)
- خیال و خواب کے پیکر بدلتے رہتے ہیںہم اپنی آگ میں ہر دم پگھلتے رہتے ہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- مجھے حیات کے سانچوں میں ڈھالنے والےکہاں گئے وہ سمندر کھنگالنے والےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- مری حیات کو بے ربط باب رہنے دےورق ورق یوں ہی غم کی کتاب رہنے دےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- ورق ورق یہ فسانہ بکھرنے والا تھابچا لیا مجھے اس نے میں مرنے والا تھاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- جو پڑ گئی تھی گرہ دل میں کھولتے ہم بھیوہ بات کرتا تو کچھ اس سے بولتے ہم بھیQamar Iqbal (1944–1988)