خودی کو صبر و تحمل سے آشنا رکھنا

Zaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)

خودی کو صبر و تحمل سے آشنا رکھنا

بڑی ہے بات بڑا دل کا حوصلہ رکھنا

اسی سے ہے یہ مری زندگی میں رعنائی

مرا چراغ محبت ہوا جلا رکھنا

نہیں ہے شان اٹھا کر اکڑ کے چلنے میں

ہمیشہ سر کو ادب سے جھکا ہوا رکھنا

نہ جانے کون سا لمحہ ہو اس کی آمد کا

خیال ذہن میں ہر وقت موت کا رکھنا

سنبھال لینا بلندی پہ آسماں کی مجھے

مری اڑان کی تو آبرو ہوا رکھنا

تو اپنے رحم و کرم سے نواز دینا ہمیں

ہماری لاج تو محشر میں اے خدا رکھنا

ظہیرؔ شکر خدا کا ہر ایک پل لازم

لبوں کو شام و سحر طالب دعا رکھنا