Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتاابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتاMohsin Naqvi (1947–1996)
- زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہےبعض اوقات مری روح غضب کرتی ہےMohsin Naqvi (1947–1996)
- معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگاتیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگاMohsin Naqvi (1947–1996)
- وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلےوہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلےMohsin Naqvi (1947–1996)
- ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھاسب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھاMohsin Naqvi (1947–1996)
- واہ کیا دور ہے کیا لوگ ہیں کیا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ کہ جو کہئے تو گلا ہوتا ہےJafar Abbas (1947–2022)
- کچھ ملے یا نہ ملے ملتے ملاتے رہیےشوق اچھا ہے اسے خوب بڑھاتے رہیےVed Prakash Malik Sarshar (1947–2004)
- لڑکیاں گھر میں نکھر آئی ہیں پھولوں کی طرحوقت ٹھہرا ہے مگر سوکھی ببولوں کی طرحZafar Aziz (b. 1947)
- کس کو معلوم تھا اک روز کہ یوں ہونا تھامستقل ضبط کا انجام جنوں ہونا تھاRaeesuddin Raees (b. 1948)
- ان کے ہونٹوں کا وہ انداز کہیں اف جیسےاور تصویر مصور کا تصوف جیسےHafeez Momin (b. 1948)
- آگ سینے میں محبت کی لگاتے کیوں ہیںجب انہیں چھوڑ کے جانا ہے تو آتے کیوں ہیںKailash Guru Swami (b. 1948)
- کان پک جاتے ہیں دنیا کی شکایت سن کرکس نے جانا ہے تمہیں کس کا یقیں کر لوں میںOzair Rahman (b. 1949)
- حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تکجانے کیا بیتی ہے دانے پہ شجر ہونے تکDanish Farahi (1949–2023)
- دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلےلطف ایسا نہیں آیا تھا سزا سے پہلےDanish Farahi (1949–2023)
- اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لےراہ میں تیرگی ہوگی مرے آنسو رکھ لےRahat Indori (1950–2020)
- بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتےایک سچ کے لئے کس کس سے برائی لیتےRahat Indori (1950–2020)
- تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کےدل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کےRahat Indori (1950–2020)
- جا کے یہ کہہ دے کوئی شعلوں سے چنگاری سےپھول اس بار کھلے ہیں بڑی تیاری سےRahat Indori (1950–2020)
- جب کبھی پھولوں نے خوشبو کی تجارت کی ہےپتی پتی نے ہواؤں سے شکایت کی ہےRahat Indori (1950–2020)
- روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہےچاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہےRahat Indori (1950–2020)
- ساتھ منزل تھی مگر خوف و خطر ایسا تھاعمر بھر چلتے رہے لوگ سفر ایسا تھاRahat Indori (1950–2020)
- سب کی پگڑی کو ہواؤں میں اچھالا جائےسوچتا ہوں کوئی اخبار نکالا جائےRahat Indori (1950–2020)
- کالی راتوں کو بھی رنگین کہا ہے میں نےتیری ہر بات پہ آمین کہا ہے میں نےRahat Indori (1950–2020)
- کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیںاور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہےاب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہےRahat Indori (1950–2020)
- لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیںاتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیںRahat Indori (1950–2020)
- میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دوآسماں لائے ہو لے آؤ زمیں پر رکھ دوRahat Indori (1950–2020)
- ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتےجان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتےRahat Indori (1950–2020)
- یوں صدا دیتے ہوئے تیرے خیال آتے ہیںجیسے کعبے کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے لیکنآنے جانے میں کرایہ بھی بہت لگتا ہےRahat Indori (1950–2020)
- تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھامجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھاRahat Indori (1950–2020)
- اس سے پہلے کہ نیا پھر کوئی حملہ ہو جائےجاگتے رہیے یہاں تک کہ سویرا ہو جائےZafar Zaidi (1950–1983)
- اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائےجس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائےZafar Zaidi (1950–1983)
- اک تری یاد سے یادوں کے خزانے نکلےذکر تیرا بھی بھی محبت کے بہانے نکلےSabiha Saba (b. 1950)
- تو نہیں ہے تو مری شام اکیلی چپ ہےیاد میں دل کی یہ ویران حویلی چپ ہےSabiha Saba (b. 1950)
- خون دل مجھ سے ترا رنگ حنا مانگے ہےیا ہتھیلی پہ کوئی نقش وفا مانگے ہےGhayas Anjum (b. 1950)
- درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئےشعر لکھوں تو یہ تاثیر غزل میں آئےGhayas Anjum (b. 1950)
- ہم نے جب چاہا کوئی آگ بجھانے آئےآئے تو لوگ مگر دل کو جلانے آئےGhayas Anjum (b. 1950)
- مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہےحادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہےTahseen Firaqi (b. 1950)
- عکس در عکس ہے چہروں کی نموداری سےآئنہ دیکھتے ہیں لوگ بھی بے زاری سےLateef Ahmad Subhani (b. 1950)
- ہجر سے مرحلۂ زیست عدم ہے ہم کوفاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ کم ہے ہم کوLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- ہجر ہجرت سے سوا ہو گیا گھر آتے ہیمیں تو خود سے بھی جدا ہو گیا گھر آتے ہیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتےایک ہی جیسے نظارے نہیں اچھے لگتےYasmeen Hameed (b. 1951)
- کوئی سایہ سا لپٹ جاتا ہے دل سے آ کرکھڑکیاں کھولنی پڑتی ہیں مجھے گھبرا کرYasmeen Hameed (b. 1951)
- روبرو ان کے کوئی حرف ادا کیا کرتےدرد تو ہم کو چھپانا تھا صدا کیا کرتےIbrahim Ashk (b. 1951)
- زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہےاتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہےIbrahim Ashk (b. 1951)
- اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میںگر پڑا ہاتھ سے آئینہ پریشانی میںFaisal Ajmi (b. 1951)
- حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہےپیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- ہم نہ اردو میں نہ ہندی میں غزل کہتے ہیںہم تو بس آپ کی بولی میں غزل کہتے ہیںUrmilesh (1951–2005)
- حرف تدبیر نہ تھا حرف دلاسہ روشنمیں جو ڈوبا تو ہوا ساحل دریا روشنZafar Moradabadi (b. 1951)