کوئی سایہ سا لپٹ جاتا ہے دل سے آ کر
Yasmeen Hameed (b. 1951)کوئی سایہ سا لپٹ جاتا ہے دل سے آ کر
کھڑکیاں کھولنی پڑتی ہیں مجھے گھبرا کر
بے ثمر پیڑوں کی خواہش بھی عجب خواہش ہے
بیج بوتی ہوں کہیں اور سے مٹی لا کر
خاک پر پھول جو کھلتا ہے تو میں سوچتی ہوں
کوئی خوش ہوتا تھا اک رنگ مجھے پہنا کر
اپنے گہنوں میں کسی اور کا چہرہ دیکھا
زندگی مجھ پہ ہنسی میرے ہی گھر میں آ کر
جیسے دنیا سے بہت دور چلی آئی ہوں
مطمئن رہتی ہوں اک جھوٹ سے جی بہلا کر