Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- بیچ کر تہذیب دولت کے پجاری ہو گئےاس زمانے کے سخنور بھی مداری ہو گئےFaheem Jogapuri
- دل کی بستی میں برستا ہے وہ بادل کون ہےکر رہا ہے جو مری آنکھوں کو جل تھل کون ہےFaheem Jogapuri
- کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیرپھر کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیرFaheem Jogapuri
- گھر بناتے وقت اس کا دھیان ہونا چاہئےدھوپ رکھنے کے لئے دالان ہونا چاہئےFaheem Jogapuri
- کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیاپیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کرFaheem Jogapuri
- معرکے میں عشق کے سر سے گزرنے سے نہ ڈرگر اٹھاتا ہے تو یہ جوکھوں تو مرنے سے نہ ڈرWaliullah Muhib
- میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگوہ نہیں سننے کا ضد بیکار دلواتے ہیں لوگمرزا آسمان جاہ انجم
- جب تو میں ہوں آہ میں ایسا اثر پیدا کروںاے ستم گر تیرے دل میں اپنا گھر پیدا کروںنظام رامپوری
- دل پہ جو گزرے ہے میرے آہ میں کس سے کہوںکیا کروں میں اے مرے اللہ میں کس سے کہوںنظام رامپوری
- مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کاجانتا ہوں مدعا میں آپ کی تقریر کانظام رامپوری
- ہو کے بس انسان حیراں سر پکڑ کر بیٹھ جائےکیا بن آئے اس گھڑی جب وہ بگڑ کر بیٹھ جائےنظام رامپوری
- عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیاہو گیا ناکام لیکن کام کرنا آ گیانوح ناروی
- کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیںنام لوں کس کس کا مجھ کو ایک بیماری نہیںثاقب لکھنوی
- ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگےسننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگےثاقب لکھنوی
- ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیادل کی گتھی شانہ ہائے زلف سلجھائیں گے کیاثاقب لکھنوی
- جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھایار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھاآغا حجو شرف
- چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاںآشیاں جانوں جو ہوویں خار و خس کی پتلیاںآغا حجو شرف
- رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہےدھوم ہے پژمردہ پھولوں میں بہار آنے کو ہےآغا حجو شرف
- کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوںکیا ہے کیوں مشہور میں سودائی بازاروں میں ہوںآغا حجو شرف
- گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئیآدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئیآغا حجو شرف
- اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھاجس جگہ بنتا تھا رونا میں ادھر روتا نہ تھاTahzeeb Hafi
- آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھےکو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھےبخش ناسخ
- لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میںنام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میںبخش ناسخ
- آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کرپھر وہیں لے جائے مجھ کو بے قراری کھینچ کرحسرت عظیم آبادی
- جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبرجی ڈوبا دیتی ہے میرا یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
- قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبردل تو خوش کرتا ہے بارے یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
- ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھومبلبل و گل میں ہے چہ چہ شمع و پروانے میں دھومحسرت عظیم آبادی
- ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جاگر بھلا مانس ہے اس کوچہ میں تو اے دل نہ جاحسرت عظیم آبادی
- سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمعدل کا جلنا ہم دکھاتے ہیں تو جل جاتی ہے شمععشق اورنگ آبادی
- پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیاتم نہ جانو تو خدا جانے مجھے کیا ہو گیاصفی اورنگ آبادی
- خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کاآشیاں میرا جلا گھر جل گیا صیاد کاصفی اورنگ آبادی
- رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہےجو شکایت ہم کو ان سے ہے وہ ان کو ہم سے ہےصفی اورنگ آبادی
- کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیاایسی صورت سے تری صورت نظر آئی تو کیاصفی اورنگ آبادی
- روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغکیا نہیں انساں کی گردن پر دھواں بتی چراغاحمد حسین مائل
- گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیںمیں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیںBashar Nawaz
- گر عدو تقدیر ہے تدبیر رہنے دیجئےدوست کا دل میں ہمارے تیر رہنے دیجئےکشن کمار وقار
- کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیاحسن کو بے پردہ نام عشق کو رسوا کیاساحر دہلوی
- دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرفخوش نہیں آتا نظر کرنا غزالاں کی طرفانعام اللہ خاں یقین
- عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاںہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاںانعام اللہ خاں یقین
- کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیاجس مسلماں نے اسے دیکھا وہ کافر ہو گیاانعام اللہ خاں یقین
- کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرضنیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرضانعام اللہ خاں یقین
- کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاجکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاجانعام اللہ خاں یقین
- مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھےجی ہے آخر لے کے چھوڑے گی یہ بیماری مجھےانعام اللہ خاں یقین
- پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھومباغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھومانعام اللہ خاں یقین
- ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کواب خدا ہی شاد رکھے بلبل ناشاد کوسخی لکھنوی
- عکس ہے بے تابیوں کا دل کی ارمانوں میں کیوںبے زباں شامل ہوئے جاتے ہیں مہمانوں میں کیوںافسر میرٹھی
- وقت کی ڈبیاافسر میرٹھی
- دل کے زخموں سے چمن میں شور برپا کر دیامیں نے پھولوں میں ہنسی کا تیری چرچا کر دیاافسر میرٹھی
- کاغذ کی ناؤافسر میرٹھی
- آتے آتے طرف میرے مڑ کے پھر کیدھر چلےجان صاحب! بن تمہارے کھا کے غم ہم مر چلےمرزا اظفری