Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mahzuf

رمل مثمن محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. بیچ کر تہذیب دولت کے پجاری ہو گئےاس زمانے کے سخنور بھی مداری ہو گئےFaheem Jogapuri
  2. دل کی بستی میں برستا ہے وہ بادل کون ہےکر رہا ہے جو مری آنکھوں کو جل تھل کون ہےFaheem Jogapuri
  3. کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیرپھر کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیرFaheem Jogapuri
  4. گھر بناتے وقت اس کا دھیان ہونا چاہئےدھوپ رکھنے کے لئے دالان ہونا چاہئےFaheem Jogapuri
  5. کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیاپیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کرFaheem Jogapuri
  6. معرکے میں عشق کے سر سے گزرنے سے نہ ڈرگر اٹھاتا ہے تو یہ جوکھوں تو مرنے سے نہ ڈرWaliullah Muhib
  7. میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگوہ نہیں سننے کا ضد بیکار دلواتے ہیں لوگمرزا آسمان جاہ انجم
  8. جب تو میں ہوں آہ میں ایسا اثر پیدا کروںاے ستم گر تیرے دل میں اپنا گھر پیدا کروںنظام رامپوری
  9. دل پہ جو گزرے ہے میرے آہ میں کس سے کہوںکیا کروں میں اے مرے اللہ میں کس سے کہوںنظام رامپوری
  10. مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کاجانتا ہوں مدعا میں آپ کی تقریر کانظام رامپوری
  11. ہو کے بس انسان حیراں سر پکڑ کر بیٹھ جائےکیا بن آئے اس گھڑی جب وہ بگڑ کر بیٹھ جائےنظام رامپوری
  12. عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیاہو گیا ناکام لیکن کام کرنا آ گیانوح ناروی
  13. کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیںنام لوں کس کس کا مجھ کو ایک بیماری نہیںثاقب لکھنوی
  14. ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگےسننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگےثاقب لکھنوی
  15. ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیادل کی گتھی شانہ ہائے زلف سلجھائیں گے کیاثاقب لکھنوی
  16. جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھایار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھاآغا حجو شرف
  17. چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاںآشیاں جانوں جو ہوویں خار و خس کی پتلیاںآغا حجو شرف
  18. رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہےدھوم ہے پژمردہ پھولوں میں بہار آنے کو ہےآغا حجو شرف
  19. کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوںکیا ہے کیوں مشہور میں سودائی بازاروں میں ہوںآغا حجو شرف
  20. گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئیآدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئیآغا حجو شرف
  21. اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھاجس جگہ بنتا تھا رونا میں ادھر روتا نہ تھاTahzeeb Hafi
  22. آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھےکو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھےبخش ناسخ
  23. لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میںنام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میںبخش ناسخ
  24. آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کرپھر وہیں لے جائے مجھ کو بے قراری کھینچ کرحسرت عظیم آبادی
  25. جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبرجی ڈوبا دیتی ہے میرا یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
  26. قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبردل تو خوش کرتا ہے بارے یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
  27. ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھومبلبل و گل میں ہے چہ چہ شمع و پروانے میں دھومحسرت عظیم آبادی
  28. ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جاگر بھلا مانس ہے اس کوچہ میں تو اے دل نہ جاحسرت عظیم آبادی
  29. سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمعدل کا جلنا ہم دکھاتے ہیں تو جل جاتی ہے شمععشق اورنگ آبادی
  30. پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیاتم نہ جانو تو خدا جانے مجھے کیا ہو گیاصفی اورنگ آبادی
  31. خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کاآشیاں میرا جلا گھر جل گیا صیاد کاصفی اورنگ آبادی
  32. رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہےجو شکایت ہم کو ان سے ہے وہ ان کو ہم سے ہےصفی اورنگ آبادی
  33. کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیاایسی صورت سے تری صورت نظر آئی تو کیاصفی اورنگ آبادی
  34. روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغکیا نہیں انساں کی گردن پر دھواں بتی چراغاحمد حسین مائل
  35. گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیںمیں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیںBashar Nawaz
  36. گر عدو تقدیر ہے تدبیر رہنے دیجئےدوست کا دل میں ہمارے تیر رہنے دیجئےکشن کمار وقار
  37. کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیاحسن کو بے پردہ نام عشق کو رسوا کیاساحر دہلوی
  38. دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرفخوش نہیں آتا نظر کرنا غزالاں کی طرفانعام اللہ خاں یقین
  39. عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاںہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاںانعام اللہ خاں یقین
  40. کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیاجس مسلماں نے اسے دیکھا وہ کافر ہو گیاانعام اللہ خاں یقین
  41. کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرضنیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرضانعام اللہ خاں یقین
  42. کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاجکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاجانعام اللہ خاں یقین
  43. مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھےجی ہے آخر لے کے چھوڑے گی یہ بیماری مجھےانعام اللہ خاں یقین
  44. پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھومباغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھومانعام اللہ خاں یقین
  45. ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کواب خدا ہی شاد رکھے بلبل ناشاد کوسخی لکھنوی
  46. عکس ہے بے تابیوں کا دل کی ارمانوں میں کیوںبے زباں شامل ہوئے جاتے ہیں مہمانوں میں کیوںافسر میرٹھی
  47. وقت کی ڈبیاافسر میرٹھی
  48. دل کے زخموں سے چمن میں شور برپا کر دیامیں نے پھولوں میں ہنسی کا تیری چرچا کر دیاافسر میرٹھی
  49. کاغذ کی ناؤافسر میرٹھی
  50. آتے آتے طرف میرے مڑ کے پھر کیدھر چلےجان صاحب! بن تمہارے کھا کے غم ہم مر چلےمرزا اظفری