عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیا

نوح ناروی

عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیا

ہو گیا ناکام لیکن کام کرنا آ گیا

یہ اگر سچ ہے کہ مجھ کو عشق کرنا آ گیا

تو سمجھ لو روز جینا روز مرنا آ گیا

دعویٰ عشق و وفا پر مجھ کو مرنا آ گیا

کہہ گزرنے کی جگہ اب کر گزرنا آ گیا

ورطۂ دریائے غم نے ایسے غوطے دے دیے

ڈوبنا پھر ڈوب کر مجھ کو ابھرنا آ گیا

چند خوں آلودہ آنسو جذب دامن ہو گئے

پیکر سادہ میں غم کو رنگ بھرنا آ گیا

شیوۂ عشق و وفا میں ہم کو ناکامی سہی

کم سے کم یہ تو ہوا بے موت مرنا آ گیا

شوق سے ظلم و ستم اب روز ڈھاتے جائیے

اہل غم کو غم اٹھا کر غم نہ کرنا آ گیا

کچھ توہم کچھ توقع کچھ الم کچھ انبساط

عشق کر کے مجھ کو جینا اور مرنا آ گیا

کثرت آزار نے تعلیم دے دی ضبط کی

جبر کے باعث سے دل کو صبر کرنا آ گیا

اشک آنکھوں میں پہنچ کر دل میں پھر واپس گئے

یوں سمجھ لے چڑھتے دریا کا اترنا آ گیا

کم سے کم تھا اک طرح کا آسرا اقرار تک

لیکن ان کو صاف اب انکار کرنا آ گیا

رہ گزر سے عشق کی میں آج تک گزرا نہیں

کس طرح کہہ دوں مجھے جی سے گزرنا آ گیا

حسن کی نخوت نے پہنچایا اڑا کر عرش تک

اب تو پریوں کا بھی تم کو پر کترنا آ گیا

بحر ذوق و شوق میں یہ بھی غنیمت جانیے

نوحؔ کو طوفان اٹھا کر غرق کرنا آ گیا