Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- یاد تھا سقراطؔ کا قصہ سبھی کو احترامؔسوچئے ایسے میں بڑھ کر سچ کو سچ کہتا تو کونEhteram Islam (b. 1949)
- ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہاکتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہاYaseen Afzal (b. 1949)
- ریت کے اک شہر میں آباد ہیں در در کے لوگبے زمیں بے آسماں بے پاؤں کے بے سر کے لوگYaseen Afzal (b. 1949)
- آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھوزندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھوRahat Indori (1950–2020)
- زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کرراستے کے پتھروں سے خیریت معلوم کرRahat Indori (1950–2020)
- زندگی کی ہر کہانی بے اثر ہو جائے گیہم نہ ہوں گے تو یہ دنیا در بدر ہو جائے گیRahat Indori (1950–2020)
- شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئےایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئےRahat Indori (1950–2020)
- صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئےاے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہئےRahat Indori (1950–2020)
- صرف سچ اور جھوٹ کی میزان میں رکھے رہےہم بہادر تھے مگر میدان میں رکھے رہےRahat Indori (1950–2020)
- مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھادیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھاRahat Indori (1950–2020)
- میرے اشکوں نے کئی آنکھوں میں جل تھل کر دیاایک پاگل نے بہت لوگوں کو پاگل کر دیاRahat Indori (1950–2020)
- میرے کاروبار میں سب نے بڑی امداد کیداد لوگوں کی گلا اپنا غزل استاد کیRahat Indori (1950–2020)
- بعد اس کے میرے گھر میں اور کیا رہ جائے گابس کسی کے نام کا پتھر لگا رہ جائے گاZafar Zaidi (1950–1983)
- کھڑکیاں کھولیں تو مجھ کو آج اندازہ ہوامیرا ہی سایہ تھا وہ دیوار سے لپٹا ہواZafar Zaidi (1950–1983)
- بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہواگھر میں لا وارث پس منظر کا سناٹا ہواP P Srivastava Rind (b. 1950)
- تو نہ تھا تیری تمنا دیکھنے کی چیز تھیدل نہ مانا ورنہ دنیا دیکھنے کی چیز تھیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- بے بسی کا زہر سینے میں اتر جاتا ہے کیامیں جسے آواز دیتا ہوں وہ مر جاتا ہے کیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- راستے کی سمت اکثر دیکھتے رہتے ہیں کیوںخاک اپنے فیصلوں کی چھانتے رہتے ہیں کیوںYasmeen Hameed (b. 1951)
- اس کی اک دنیا ہوں میں اور میری اک دنیا ہے وہدشت میں تنہا ہوں میں اور شہر میں تنہا ہے وہIbrahim Ashk (b. 1951)
- رات بھر تنہا رہا دن بھر اکیلا میں ہی تھاشہر کی آبادیوں میں اپنے جیسا میں ہی تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
- برف سے لڑتا تھا میرے پاس پانی کیوں نہیںاب سوال اٹھتا ہے دریا میں روانی کیوں نہیںParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- لوگ جس کو گنگنائیں آج کے ماحول میںوہ غزل کیسے سنائیں آج کے ماحول میںUrmilesh (1951–2005)
- یہ خبر بھی چھاپئے گا آج کے اخبار میںروح بھی بکنے لگی ہے جسم کے بازار میںUrmilesh (1951–2005)
- خوش گماں ہر آسرا بے آسرا ثابت ہوازندگی تجھ سے تعلق کھوکھلا ثابت ہواZafar Moradabadi (b. 1951)
- رات بھر سورج کے بن کر ہم سفر واپس ہوئےشام بچھڑے ہم تو ہنگام سحر واپس ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- باب حیرت سے مجھے اذن سفر ہونے کو ہےتہنیت اے دل کہ اب دیوار در ہونے کو ہےParveen Shakir (1952–1994)
- بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنامیں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھناParveen Shakir (1952–1994)
- پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کوندست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کونParveen Shakir (1952–1994)
- تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھParveen Shakir (1952–1994)
- جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہےچاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہےParveen Shakir (1952–1994)
- میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیاساتھ میرے روشنی بن کر سفر اس نے کیاParveen Shakir (1952–1994)
- ہاتھ میرے بھول بیٹھے دستکیں دینے کا فنبند مجھ پر جب سے اس کے گھر کا دروازہ ہواParveen Shakir (1952–1994)
- مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیاارتقا نے زندگی کا زخم گہرا کر دیاYaqoob Yawar (b. 1952)
- پاؤں سے نکلی زمیں تو لاپتا ہو جاؤ گےتم ہوا میں مت اڑو ورنہ ہوا ہو جاؤ گےZaheer Alam (b. 1952)
- اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگعمر بھر کرتے رہے ہم دودھ اور پانی الگTafzeel Ahmad (b. 1954)
- کشتیوں کے کھلکھلاتے بادبانوں کی طرحرات بھر اگتے ہیں چہرے گم خزانوں کی طرحTafzeel Ahmad (b. 1954)
- آئنہ سے بات کرنا اتنا آساں بھی نہیںعکس کی تہہ سے ابھرنا اتنا آساں بھی نہیںUsha Bhadoriya (b. 1954)
- عمر بھر کے خواب کا حاصل سمجھ بیٹھے ہیں لوگسایۂ دیوار کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں لوگZafar Siddiqui (b. 1954)
- آگ کے صفحے پہ نقش ما و من رہ جائے گاراکھ میں سچائی کا زندہ بدن رہ جائے گاTahir Hanfi (b. 1955)
- موسموں کے شہر میں پانی کے گھر اگنے لگےچپ ہوا کی کوکھ سے تنہا سفر اگنے لگےTahir Hanfi (b. 1955)
- کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہو جائے گاعمر بھر چاہا جسے وہ بے وفا ہو جائے گاEjaz Ansari (b. 1955)
- تجربہ ہے مرحلہ ہے حادثہ ہے زندگیزندگی منزل نہیں ہے راستہ ہے زندگیSaba Bilgrami (b. 1955)
- فیصلے کی اس گھڑی کا التوا اچھا لگاایک رشتہ ٹوٹنے سے بچ گیا اچھا لگاParveen Kaif (b. 1956)
- اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کاآئینہ تو آج بھی ہے کہکشانی رنگ کاObaid Siddiqi (1957–2020)
- تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کیتو نہ تھا مجرم اکیلا ہاں خطا میں نے بھی کیObaid Siddiqi (1957–2020)
- کون دل کا درد پہچانے کسے آواز دیںسوچتے رہتے ہیں دیوانے کسے آواز دیںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- تجھ سے جو کچھ تھا ذرا سا واسطہ وہ بھی گیانام ہی کو جو تھا قائم رابطہ وہ بھی گیاSabeen Yunus (b. 1957)
- خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیامختصر یہ ہے وہ میری زندگانی لے گیاIffat Zarrin (b. 1958)
- نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہےنفرتوں کی کھاد ہیں الفت مگر کھادی سے ہےZafar Kamali (b. 1959)
- اس زمانے کی عجب تشنہ لبی ہے اے ظفرؔپیاس اس کی صرف بجھتی ہے ہمارے خون سےZafar Kamali (b. 1959)