کشتیوں کے کھلکھلاتے بادبانوں کی طرح
Tafzeel Ahmad (b. 1954)کشتیوں کے کھلکھلاتے بادبانوں کی طرح
رات بھر اگتے ہیں چہرے گم خزانوں کی طرح
ہو نہ ہر پھر سیر گل کو جا رہی ہے فاختہ
پھر ہوا چلنے لگی ہے نوجوانوں کی طرح
بارہا جو مجھ سے ٹکراتی ہے میری گونج ہے
میں بھی خوش آباد ہوں خالی مکانوں کی طرح
جمع ہے کوزے سا مجھ میں عمر بھر کا شور و غل
لگ رہے ہیں ذہن و دل نقار خانوں کی طرح
مجھ کو سیپی سا ڈھکے رہتا ہے مٹی پر فلک
حشر میں نکلوں کہیں موتی کے دانوں کی طرح
زعفران فن بنے گا ورثۂ اردو مرا
میں نے بھی الفاظ بوئے ہیں کسانوں کی طرح