Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہتپھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہتKaleem Usmani (1928–2000)
- زندگی کو موت کی زد پر جو لا سکتا نہیںموت کے آغوش میں وہ مسکرا سکتا نہیںDaud Nishat (1929–1992)
- زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئےبے حسی اک برف ہے اس کو پگھلنا چاہئےEhsan Jafri (1929–2002)
- آنکھ میں آنسو نظر میں درد پیدا کر گیامیرا ہنسنے کا ارادہ کیا غضب ڈھا کر گیاBalraj Hairat (1930–1995)
- خود ہی اپنا راز خود ہی راز داں بن جاؤں گاایک لمحے کا یقیں ہوں پھر گماں بن جاؤں گاBalraj Hairat (1930–1995)
- سخت نا ہموار و مشکل تھا مگر ایسا نہ تھامیں نے جب راہیں تراشی تھیں سفر ایسا نہ تھاBalraj Hairat (1930–1995)
- کیا کہیں یہ جبر کیسا زندگی کے ساتھ ہےہم کسی کے ساتھ ہیں اور دل کسی کے ساتھ ہےRaees Rampuri (b. 1930)
- عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کروباؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کروAhmad Faraz (1931–2008)
- گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگامدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگاAhmad Faraz (1931–2008)
- مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیںلاکھ سمجھایا کہ اس محفل میں اب جانا نہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کابات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کاAhmad Faraz (1931–2008)
- ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتاکون دریا کو الٹتا کون گوہر دیکھتاAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہمچارہ گر روئیں گے اور غم خوار بن جائیں گے ہمAhmad Faraz (1931–2008)
- دل سلگ اٹھتا ہے اپنے بام و در کو دیکھ کرپھیلنے لگتی ہیں جب بھی شام کی پرچھائیاںAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ تری آنکھوں کی بے زاری یہ لہجے کی تھکنکتنے اندیشوں کی حامل ہیں یہ دل کی دھڑکنیںAhmad Faraz (1931–2008)
- بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیاپا پیادہ ہو کے کوئی شہسوار آیا تو کیاJaun Elia (1931–2002)
- جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نامذات سے اپنی نہ ہلنے کا سفر رکھا ہے نامJaun Elia (1931–2002)
- ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیےہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیےJaun Elia (1931–2002)
- اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیںاشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
- حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئےہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئےQabil Ajmeri (1931–1962)
- تم کو بھی شاید ہماری جستجو کرنی پڑےہم تمہاری جستجو میں اب یہاں تک آ گئےQabil Ajmeri (1931–1962)
- رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہواشور کرتے تھے پرندے سو گئے اچھا ہواParkash Fikri (1931–2008)
- کالی راتوں میں فصیل درد اونچی ہو گئیاندھی گلیوں میں خموشی لاش بن کے سو گئیParkash Fikri (1931–2008)
- کل لہکتی چاندنی نے اور بھی تنہا کیامیں اندھیرے بند کمرے میں پڑا رویا کیاParkash Fikri (1931–2008)
- کیا خبر تھی منحرف اہل جہاں ہو جائیں گےہوتے ہوتے مہرباں نا مہرباں ہو جائیں گےDanish Aligarhi (b. 1931)
- عشق میں برباد ہونے پر پشیمانی تو ہےپھر بھی میری قدر و قیمت اس نے پہچانی تو ہےZafar Naseemi (b. 1931)
- حسن کے انکار سے بھی کچھ تو پردہ رہ گیامیں بھی کافی مطمئن ہوں وہ بھی اچھا رہ گیاZafar Iqbal (b. 1932)
- خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئےیہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئےZafar Iqbal (b. 1932)
- رفتہ رفتہ لگ چکے تھے ہم بھی دیواروں کے ساتھحشر اپنا بھی یہی تھا ہم بھی تھے ساروں کے ساتھZafar Iqbal (b. 1932)
- کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھےجتنی بھی مشکل میں ہوں آسان کر دے گا مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
- کچھ نہیں سمجھا ہوں اتنا مختصر پیغام تھاکیا ہوا تھی جس ہوا کے ہاتھ پر پیغام تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- کھڑکیاں کس طرح کی ہیں اور در کیسا ہے وہسوچتا ہوں جس میں وہ رہتا ہے گھر کیسا ہے وہZafar Iqbal (b. 1932)
- میں نے کب دعویٰ کیا تھا سر بسر باقی ہوں میںپیش خدمت ہوں تمہارے جس قدر باقی ہوں میںZafar Iqbal (b. 1932)
- یوں تو ہے زیر نظر ہر ماجرا دیکھا ہواپھر نہیں دیکھا ہے وہ رنگ ہوا دیکھا ہواZafar Iqbal (b. 1932)
- یہ نہیں کہتا کہ دوبارہ وہی آواز دےکوئی آسانی تو پیدا کر کوئی آواز دےZafar Iqbal (b. 1932)
- وہ بہت چالاک ہے لیکن اگر ہمت کریںپہلا پہلا جھوٹ ہے اس کو یقیں آ جائے گاZafar Iqbal (b. 1932)
- آ کے ساحل کے قریں جاتا ہوں ساحل سے پرےآ کے منزل پر چلا جاتا ہوں منزل سے پرےDaud Ghazi (1932–1963)
- جب تصور میں کسی کو پاس پا لیتا ہوں میںاک نرالے کیف کو دل میں بسا لیتا ہوں میںDaud Ghazi (1932–1963)
- کارواں بڑھتا رہا بڑھتا رہاپے بہ پے جادہ بہ جادہ اپنی منزل کی طرفDaud Ghazi (1932–1963)
- لوگ کہتے ہیں کہ یہ عالم ہے اک عالم نیاساز نو ہاتھوں میں ہے پیدا ہے زیر و بم نیاDaud Ghazi (1932–1963)
- جسم تو مٹی میں ملتا ہے یہیں مرنے کے بعداس کو کیا روئیں جو مرتا ہی نہیں مرنے کے بعدGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- دوستی اپنی جگہ اور دشمنی اپنی جگہفرض کے انجام دینے کی خوشی اپنی جگہGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائےکیا کرے وہ جس کا دل پتھر بنے اور ٹوٹ جائےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- کتنے جملے ہیں کہ جو روپوش ہیں یاروں کے بیچہم بھی مجرم کی طرح خاموش ہیں یاروں کے بیچGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- بھاگتے سایوں کے پیچھے تا بہ کے دوڑا کریںزندگی تو ہی بتا کب تک ترا پیچھا کریںHafeez Banarasi (1933–2008)
- ایک سیتا کی رفاقت ہے تو سب کچھ پاس ہےزندگی کہتے ہیں جس کو رام کا بن باس ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- بے ضمیروں کے کبھی جھانسے میں میں آتا نہیںمشکلوں کی بھیڑ سے ہرگز میں گھبراتا نہیںIbrat Bahraichi (1933–2021)
- رنگ و نام و نسل کے جھگڑے مٹا لیجے ذراہم گلے مل لیں گے یہ پردے اٹھا لیجے ذراSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
- درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پردوستو پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پرShakeb Jalali (1934–1966)
- گونجتا ہے نالۂ مہتاب آدھی رات کوٹوٹ جاتے ہیں سہانے خواب آدھی رات کوShakeb Jalali (1934–1966)