Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیںموج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہم ہیں کعبہ ہم ہیں بت خانہ ہمیں ہیں کائناتہو سکے تو خود کو بھی اک بار سجدا کیجیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تکرات تنہائی میں کالا ابر برسا دیر تکJafar Shirazi (b. 1920)
- راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرےبرگ کتنے آندھیوں کے پاؤں میں آ کر گرےJafar Shirazi (b. 1920)
- جان دے دی رہرو منزل نے منزل کے قریبحوصلے طوفاں کے نکلے بھی تو ساحل کے قریبRaees Niyazi (1920–1994)
- تیرا کیا جاتا جو ملتا جام ریحانی مجھےمے کے بدلے ساقیا تو نے دیا پانی مجھےRaaz Layalpuri (b. 1920)
- ہر سہارا بے عمل کے واسطے بیکار ہےآنکھ ہی کھولے نہ جب کوئی اجالا کیا کرےHafeez Merathi (1922–2000)
- آپ آتے ہیں تو آ جائیں مگر یہ شرط ہےمجھ سے برگشتہ نہ ہو جائیں مری تنہائیاںJalee Amrohvi (1922–2013)
- چھوڑ کر جنت جدھر بھی حضرت آدم گئےساتھ ساتھ ان کے ہزاروں کاروان غم گئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعددن نکلتا ہے اندھیری رات ڈھل جانے کے بعدD. Raj Kanwal (b. 1923)
- حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگآج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگQadir Siddiqi (b. 1923)
- رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہمہم یہ سمجھے تھے کہ ان کو بھولتے جاتے ہیں ہمQadir Siddiqi (b. 1923)
- بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھیزندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
- میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھیدیکھنی ہے آبجوئے زیست کی رفتار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
- آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاستھی کبھی یہ دولت بیدار انسانوں کے پاسBaldev Raaj (b. 1924)
- زندگی ہے عشق میری روح خودداری مریوائے مجبوری مری صد حیف مختاری مریBaldev Raaj (b. 1924)
- اب صلیبیں شاہراہوں پر سجا دی جائیں گیعکس رہ جائیں گے تصویریں ہٹا دی جائیں گیGauhar Usmani (1924–2004)
- پھول وہ دے کر مجھے کانٹوں کا گلشن دے گیاایک لمحے کا سکوں صدیوں کی الجھن دے گیاUmar Quraishi (1924–2010)
- میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گاسر جھکا تو سر کو سجدوں کا نشہ ہو جائے گاOm Krishn Rahat (b. 1925)
- آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہےمیری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہےQamar Jameel (1927–2000)
- یہ ادائیں رقص کے ہنگام کتنی رقص خیزوہ جوانان قبیلہ ہوش سے باہر چلےQamar Jameel (1927–2000)
- منتشر شہزاد گان دل کا شیرازہ نہ ہوکاش یاروں کی ہنسی فتنوں کا غمازہ نہ ہوGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہےظلمت شب میں چراغ آسا دمیدہ کون ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیاچاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیاMunir Niazi (1928–2006)
- اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھایہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھاMunir Niazi (1928–2006)
- امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہترنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہتMunir Niazi (1928–2006)
- بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنےمیں ہی بس ہوتا ہوں اس کی اس ادا کے سامنےMunir Niazi (1928–2006)
- بے حقیقت دوریوں کی داستاں ہوتی گئییہ زمیں مثل سراب آسماں ہوتی گئیMunir Niazi (1928–2006)
- بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیااپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیاMunir Niazi (1928–2006)
- پھول تھے بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھیدل میں لیکن اور ہی اک شکل کی حسرت بھی تھیMunir Niazi (1928–2006)
- دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیامیں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیاMunir Niazi (1928–2006)
- دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرفیاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرفMunir Niazi (1928–2006)
- دن اگر چڑھتا ادھر سے میں ادھر سے جاگتاحسن سارا مشرقوں کا ساتھ میرے جاگتاMunir Niazi (1928–2006)
- زور پیدا جسم و جاں کی ناتوانی سے ہواشور شہروں میں مسلسل بے زبانی سے ہواMunir Niazi (1928–2006)
- سارے منظر ایک جیسے ساری باتیں ایک سیسارے دن ہیں ایک سے اور ساری راتیں ایک سیMunir Niazi (1928–2006)
- شام کے مسکن میں ویراں میکدے کا در کھلاباب گزری صحبتوں کا خواب کے اندر کھلاMunir Niazi (1928–2006)
- شہر پربت بحر و بر کو چھوڑتا جاتا ہوں میںاک تماشا ہو رہا ہے دیکھتا جاتا ہوں میںMunir Niazi (1928–2006)
- صحن کو چمکا گئی بیلوں کو گیلا کر گئیرات بارش کی فلک کو اور نیلا کر گئیMunir Niazi (1928–2006)
- غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیںتو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیںMunir Niazi (1928–2006)
- محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئےدیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئےMunir Niazi (1928–2006)
- میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیاعمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیاMunir Niazi (1928–2006)
- نام بے حد تھے مگر ان کا نشاں کوئی نہ تھابستیاں ہی بستیاں تھیں پاسباں کوئی نہ تھاMunir Niazi (1928–2006)
- وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیاریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیاMunir Niazi (1928–2006)
- ہیں رواں اس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہوجستجو کرتے ہیں اس کی جو ہمیں حاصل نہ ہوMunir Niazi (1928–2006)
- پھیلتی ہے شام دیکھو ڈوبتا ہے دن عجبآسماں پر رنگ دیکھو ہو گیا کیسا غضبMunir Niazi (1928–2006)
- رات بے حد چپ ہے اور اس کا اندھیرا شرمگیںشام پڑتے ہی دمکتے تھے جو رنگوں کے نگیںMunir Niazi (1928–2006)
- شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداسرونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیںMunir Niazi (1928–2006)
- آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہبد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہHabib Jalib (1928–1993)
- اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیںتخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیںHabib Jalib (1928–1993)
- ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیےدیکھنے کی شے نہ تھی دنیا مگر دیکھا کیےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)