Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mahzuf

رمل مثمن محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیںموج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  2. ہم ہیں کعبہ ہم ہیں بت خانہ ہمیں ہیں کائناتہو سکے تو خود کو بھی اک بار سجدا کیجیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  3. دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تکرات تنہائی میں کالا ابر برسا دیر تکJafar Shirazi (b. 1920)
  4. راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرےبرگ کتنے آندھیوں کے پاؤں میں آ کر گرےJafar Shirazi (b. 1920)
  5. جان دے دی رہرو منزل نے منزل کے قریبحوصلے طوفاں کے نکلے بھی تو ساحل کے قریبRaees Niyazi (1920–1994)
  6. تیرا کیا جاتا جو ملتا جام ریحانی مجھےمے کے بدلے ساقیا تو نے دیا پانی مجھےRaaz Layalpuri (b. 1920)
  7. ہر سہارا بے عمل کے واسطے بیکار ہےآنکھ ہی کھولے نہ جب کوئی اجالا کیا کرےHafeez Merathi (1922–2000)
  8. آپ آتے ہیں تو آ جائیں مگر یہ شرط ہےمجھ سے برگشتہ نہ ہو جائیں مری تنہائیاںJalee Amrohvi (1922–2013)
  9. چھوڑ کر جنت جدھر بھی حضرت آدم گئےساتھ ساتھ ان کے ہزاروں کاروان غم گئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  10. ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعددن نکلتا ہے اندھیری رات ڈھل جانے کے بعدD. Raj Kanwal (b. 1923)
  11. حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگآج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگQadir Siddiqi (b. 1923)
  12. رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہمہم یہ سمجھے تھے کہ ان کو بھولتے جاتے ہیں ہمQadir Siddiqi (b. 1923)
  13. بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھیزندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
  14. میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھیدیکھنی ہے آبجوئے زیست کی رفتار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
  15. آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاستھی کبھی یہ دولت بیدار انسانوں کے پاسBaldev Raaj (b. 1924)
  16. زندگی ہے عشق میری روح خودداری مریوائے مجبوری مری صد حیف مختاری مریBaldev Raaj (b. 1924)
  17. اب صلیبیں شاہراہوں پر سجا دی جائیں گیعکس رہ جائیں گے تصویریں ہٹا دی جائیں گیGauhar Usmani (1924–2004)
  18. پھول وہ دے کر مجھے کانٹوں کا گلشن دے گیاایک لمحے کا سکوں صدیوں کی الجھن دے گیاUmar Quraishi (1924–2010)
  19. میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گاسر جھکا تو سر کو سجدوں کا نشہ ہو جائے گاOm Krishn Rahat (b. 1925)
  20. آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہےمیری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہےQamar Jameel (1927–2000)
  21. یہ ادائیں رقص کے ہنگام کتنی رقص خیزوہ جوانان قبیلہ ہوش سے باہر چلےQamar Jameel (1927–2000)
  22. منتشر شہزاد گان دل کا شیرازہ نہ ہوکاش یاروں کی ہنسی فتنوں کا غمازہ نہ ہوGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  23. وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہےظلمت شب میں چراغ آسا دمیدہ کون ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  24. اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیاچاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیاMunir Niazi (1928–2006)
  25. اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھایہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھاMunir Niazi (1928–2006)
  26. امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہترنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہتMunir Niazi (1928–2006)
  27. بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنےمیں ہی بس ہوتا ہوں اس کی اس ادا کے سامنےMunir Niazi (1928–2006)
  28. بے حقیقت دوریوں کی داستاں ہوتی گئییہ زمیں مثل سراب آسماں ہوتی گئیMunir Niazi (1928–2006)
  29. بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیااپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیاMunir Niazi (1928–2006)
  30. پھول تھے بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھیدل میں لیکن اور ہی اک شکل کی حسرت بھی تھیMunir Niazi (1928–2006)
  31. دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیامیں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیاMunir Niazi (1928–2006)
  32. دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرفیاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرفMunir Niazi (1928–2006)
  33. دن اگر چڑھتا ادھر سے میں ادھر سے جاگتاحسن سارا مشرقوں کا ساتھ میرے جاگتاMunir Niazi (1928–2006)
  34. زور پیدا جسم و جاں کی ناتوانی سے ہواشور شہروں میں مسلسل بے زبانی سے ہواMunir Niazi (1928–2006)
  35. سارے منظر ایک جیسے ساری باتیں ایک سیسارے دن ہیں ایک سے اور ساری راتیں ایک سیMunir Niazi (1928–2006)
  36. شام کے مسکن میں ویراں میکدے کا در کھلاباب گزری صحبتوں کا خواب کے اندر کھلاMunir Niazi (1928–2006)
  37. شہر پربت بحر و بر کو چھوڑتا جاتا ہوں میںاک تماشا ہو رہا ہے دیکھتا جاتا ہوں میںMunir Niazi (1928–2006)
  38. صحن کو چمکا گئی بیلوں کو گیلا کر گئیرات بارش کی فلک کو اور نیلا کر گئیMunir Niazi (1928–2006)
  39. غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیںتو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیںMunir Niazi (1928–2006)
  40. محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئےدیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئےMunir Niazi (1928–2006)
  41. میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیاعمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیاMunir Niazi (1928–2006)
  42. نام بے حد تھے مگر ان کا نشاں کوئی نہ تھابستیاں ہی بستیاں تھیں پاسباں کوئی نہ تھاMunir Niazi (1928–2006)
  43. وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیاریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیاMunir Niazi (1928–2006)
  44. ہیں رواں اس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہوجستجو کرتے ہیں اس کی جو ہمیں حاصل نہ ہوMunir Niazi (1928–2006)
  45. پھیلتی ہے شام دیکھو ڈوبتا ہے دن عجبآسماں پر رنگ دیکھو ہو گیا کیسا غضبMunir Niazi (1928–2006)
  46. رات بے حد چپ ہے اور اس کا اندھیرا شرمگیںشام پڑتے ہی دمکتے تھے جو رنگوں کے نگیںMunir Niazi (1928–2006)
  47. شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداسرونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیںMunir Niazi (1928–2006)
  48. آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہبد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہHabib Jalib (1928–1993)
  49. اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیںتخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیںHabib Jalib (1928–1993)
  50. ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیےدیکھنے کی شے نہ تھی دنیا مگر دیکھا کیےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)