چھوڑ کر جنت جدھر بھی حضرت آدم گئے
D. Raj Kanwal (b. 1923)چھوڑ کر جنت جدھر بھی حضرت آدم گئے
ساتھ ساتھ ان کے ہزاروں کاروان غم گئے
رفتہ رفتہ جب مری آنکھوں پر آنسو جم گئے
یوں لگا جیسے مسافر منزلوں پر تھم گئے
بے ثباتی پر تو جن کے رات بھر گریاں رہی
پھول کب کے وہ چمن سے دیکھ اے شبنم گئے
میکدہ ویران ساغر سرنگوں ساقی اداس
زندگی سے اب سرور و کیف کے عالم گئے
اگلے وقتوں کی کہاں اب رہ گئیں باتیں حضور
حسن کی سادہ مزاجی عشق کے دم خم گئے
انجمن کی انجمن تصویر بن کر رہ گئی
اس ادا سے آج ان کی انجمن میں ہم گئے
رہ گئی اب چلچلاتی دھوپ نفرت کی کنولؔ
چاندنی راتیں گئیں وہ پیار کے موسم گئے