Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- چور دروازہ یاں کے ہم بھی ہیںان کو روزن سے جھانکے ہم بھی ہیںکشن کمار وقار
- خط کی رخسار پر سیاہی ہےچشم خوابیدہ خوش نگاہی ہےکشن کمار وقار
- عاشق گیسو دوتا ہوں میںآپ اپنے لیے بلا ہوں میںکشن کمار وقار
- عاشقی میں ہے جان کا کھٹکااور بھی کچھ برا بھلا کھٹکاکشن کمار وقار
- مبتلا ایک بت کا ہوتا ہوںآج ایمان اپنا کھوتا ہوںکشن کمار وقار
- وہ مژہ مارتی کٹاری ہےچشم بددور زخم کاری ہےکشن کمار وقار
- نیست بے یار مجھ کو ہستی ہےشہر ویراں اجاڑ بستی ہےرند لکھنوی
- آشنا جو مزہ کا ہوتا ہےاپنے حق میں وہ کانٹے بوتا ہےمیر اثر
- اثرؔ اب تک فریب کھاتا ہےتیری باتوں کو مان جاتا ہےمیر اثر
- تو مری جان گر نہیں آتیزیست ہوتی نظر نہیں آتیمیر اثر
- دل میں سو آرمان رکھتا ہوںپیارے آخر میں جان رکھتا ہوںمیر اثر
- صرف غم ہم نے نوجوانی کیواہ کیا خوب زندگانی کیمیر اثر
- کر کے دل کو شکار آنکھوں میںگھر کرے ہے تو یار آنکھوں میںمیر اثر
- لوگ کہتے ہیں یار آتا ہےدل تجھے اعتبار آتا ہےمیر اثر
- نہ لگا لے گئے جہاں دل کوآہ لے جائیے کہاں دل کومیر اثر
- ہم غلط احتمال رکھتے تھےتجھ سے کیا کیا خیال رکھتے تھےمیر اثر
- میں تجھے واہ کیا تماشا ہےذہن میں آشنا تراشا ہےمیر اثر
- آں سے ظالم کا امتحاں اور میںیہ ستم تیرے آسماں اور میںقربان علی سالک بیگ
- اب تو لب سے نہ جائے گا آگےنالے کا زور شور تھا آگےقربان علی سالک بیگ
- انتہا صبر آزمائی کیہے درازی شب جدائی کیقربان علی سالک بیگ
- بھول کر بھی ادھر نہیں آتاوہ کبھی راہ پر نہیں آتاقربان علی سالک بیگ
- دل جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیںسب کو دیکھے دکھائے بیٹھے ہیںقربان علی سالک بیگ
- دل محبت مکان ہے گویاآرزو کا جہان ہے گویاقربان علی سالک بیگ
- دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھےدل کو جو کوئی تیرا گھر سمجھےقربان علی سالک بیگ
- مجھ پر ایسی جفا کی کثرت کیکہ اسے غیر نے ملامت کیقربان علی سالک بیگ
- اٹھے آج ان سے فیصلہ کر کےیا خفا ہو کے یا خفا کر کےقربان علی سالک بیگ
- یوں عیاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہمکہ نہاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہمقربان علی سالک بیگ
- ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتاتو یہ سکہ ہمارا چل جاتاسخی لکھنوی
- بام پر آتا ہے ہمارا چاندآسماں سے کرے کنارا چاندسخی لکھنوی
- پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیادل تو تھا ہی نہیں چراتے کیاسخی لکھنوی
- تم اگر دو نہ پیرہن اپناچرخ سے مانگ لوں کفن اپناسخی لکھنوی
- دل ہی میرا فقط ہے مطلب کایا جگر بھی ہے آپ کے ڈھب کاسخی لکھنوی
- زلف شب رنگ جو بنائی ہےان دنوں شانے کی بن آئی ہےسخی لکھنوی
- عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخسیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخسخی لکھنوی
- عشق ہے یار کا خدا حافظامر دشوار کا خدا حافظسخی لکھنوی
- گھر میں ساقیٔ مست کے چل کےآج ساغر شراب کا چھلکےسخی لکھنوی
- ہم پہ جور و ستم کے کیا معنیترک رحم و کرم کے کیا معنیسخی لکھنوی
- اس کی صورت کو دیکھ کر بھولےہائے ہم بھولے سر بسر بھولےمرزا اظفری
- ایک برچھی سے مار جاتے ہودر پر آ جب پکار جاتے ہومرزا اظفری
- تجھ میں جس دم دھیان جاتا ہےہوش آیا اس آن جاتا ہےمرزا اظفری
- جبکہ غصے کے بیچ آتے ہولاکھ لاکھ ایک کی سناتے ہومرزا اظفری
- جی میں کیا کیا مری اماہا تھاپر ہوا وہ جو حق کا چاہا تھامرزا اظفری
- غیروں کے ساتھ گاتے جاتے ہوچٹکیوں میں ہمیں اڑاتے ہومرزا اظفری
- آہ کو جو کہوں برائی کیبخت نے کون سی رسائی کیزین العابدین خاں عارف
- میرے دل کو بٹھا دیا کس نےآ کے کعبے کو ڈھا دیا کس نےزین العابدین خاں عارف
- اعتبار نظر کریں کیسےہم ہوا میں بسر کریں کیسےباقی صدیقی
- جب پیارا گلہ سناتا ہےعشق تازہ بدن میں آتا ہےعلیم اللہ
- حسن کا دیکھ ہر طرف گل زارعندلیباں ہوئے ہیں دل افگارعلیم اللہ
- عقل کو چھوڑ عشق میں آ جاخام ہے عشق سوں جو کوئی لا جاعلیم اللہ
- نور حق بے حجاب عشق اللہیاد دلبر شراب عشق اللہعلیم اللہ