Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئےاڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئےMir Anees (1803–1874)
  2. اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلےستم کے تیر چلے نیمچے قضا کے چلےMir Anees (1803–1874)
  3. خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیےشمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لیےMir Anees (1803–1874)
  4. سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کوہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کوMir Anees (1803–1874)
  5. سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کرکٹ گیا ہے ماہِ تاباں روئے انور دیکھ کرMir Anees (1803–1874)
  6. شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرحجہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرحMir Anees (1803–1874)
  7. کوئی انیسؔ کوئی آشنا نہیں رکھتےکسی کی آس بغیر از خدا نہیں رکھتےMir Anees (1803–1874)
  8. مرا راز دل آشکارا نہیںوہ دریا ہوں جس کا کنارا نہیںMir Anees (1803–1874)
  9. نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیںوہ جاگتے ہیں جو دنیا کو خواب سمجھے ہیںMir Anees (1803–1874)
  10. وجد ہو بلبل تصویر کو جس کی بو سےاوس سے گل رنگ کا دعویٰ کرے پھر کس رو سےMir Anees (1803–1874)
  11. آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہےاشکوں کی ردا منہ پہ پڑی رہتی ہےMir Anees (1803–1874)
  12. اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچاہشیار ہو جلد وقت خواب آ پہنچاMir Anees (1803–1874)
  13. احباب سے امید ہے بے جا مجھ کوامید عطائے حق ہے زیبا مجھ کوMir Anees (1803–1874)
  14. اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشکاللہ ہے مشتری وہ گوہر ہیں یہ اشکMir Anees (1803–1874)
  15. افزوں ہیں بیاں سے معجزات حیدرحلال مہمات ہے ذات حیدرMir Anees (1803–1874)
  16. افضل کوئی مرتضیٰ سے ہمت میں نہیںاس طرح کا بندہ تو حقیقت میں نہیںMir Anees (1803–1874)
  17. الفت ہو جسے اسے ولی کہتے ہیںایسوں کو سعید ازلی کہتے ہیںMir Anees (1803–1874)
  18. اللہ اللہ عز و جاہ ذاکردربار حسینی میں ہے راہ ذاکرMir Anees (1803–1874)
  19. اے خالق ذوالفضل و کرم رحمت کراے دافع ہر رنج و الم رحمت کرMir Anees (1803–1874)
  20. اے مومنو فاطمہؓ کا پیارا شبیرکل جائے گا بھوکا پیاسا مارا شبیرMir Anees (1803–1874)
  21. بے گور و کفن باپ کا لاشہ دیکھاپردیس میں مادر کا رنڈاپا دیکھاMir Anees (1803–1874)
  22. سوز غم دوری نے جلا رکھا ہےآہوں نے کنول دل کا بجھا رکھا ہےMir Anees (1803–1874)
  23. عصیاں سے ہوں شرمسار توبہ یاربکرتا ہوں میں بار بار توبہ یاربMir Anees (1803–1874)
  24. قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علیپنہاں ہے کبھی تو گاہ پیدا ہے علیMir Anees (1803–1874)
  25. کھو دل کے مرض کو اے طبیب امتسکھلا آداب اے ادیب امتMir Anees (1803–1874)
  26. کھینچے مجھے موت زندگانی کی طرفغم خود لے جائے شادمانی کی طرفMir Anees (1803–1874)
  27. لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہسب جس میں بھرے ہیں گل و مجمع ہے یہMir Anees (1803–1874)
  28. آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشاادنیٰ کے لیے مقام اعلیٰ بخشاMir Anees (1803–1874)
  29. آدم کو یہ تحفہ یہ ہدیہ نہ ملاایسا تو کسی بشر کو پایا نہ ملاMir Anees (1803–1874)
  30. اب خواب سے چونک وقت بیداری ہےلے زاد سفر کوچ کی تیاری ہےMir Anees (1803–1874)
  31. اب گرم خبر موت کے آنے کی ہےغافل تجھے فکر آب و دانے کی ہےMir Anees (1803–1874)
  32. اب وقت سرور او فرحت اندوزی ہےہر دل مصروف جشن نو روزی ہےMir Anees (1803–1874)
  33. اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میںتوفیق رفیق ہو تو چلتا ہوں میںMir Anees (1803–1874)
  34. اتنا نہ غرور کر کہ مرنا ہے تجھےآرام ابھی قبر میں کرنا ہے تجھےMir Anees (1803–1874)
  35. اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوںبھیگے جو مژہ دیدۂ تر ٹھنڈے ہوںMir Anees (1803–1874)
  36. اصحاب نے پوچھا جو نبی کو دیکھامعراج میں حضرت نے کسی کو دیکھاMir Anees (1803–1874)
  37. اعلیٰ رتبے میں ہر بشر سے پایاافضل انہیں خضر راہ بر سے پایاMir Anees (1803–1874)
  38. اکبر نے جو گھر موت کا آباد کیاصغرا کو دم نزع بہت یاد کیاMir Anees (1803–1874)
  39. انجام پہ اپنے آہ و زاری کر توسختی بھی جو ہو تو بردباری کر توMir Anees (1803–1874)
  40. انداز سخن تم جو ہمارے سمجھوجو لطف کلام ہیں وہ سارے سمجھوMir Anees (1803–1874)
  41. اے بخت رسا سوئے نجف راہی کرمجھ زار کو زائر ید اللہی کرMir Anees (1803–1874)
  42. اے شاہ کے غم میں جان کھونے والواے ابن علی کے صدقے ہونے والوMir Anees (1803–1874)
  43. بادل آ کے رو گئے ہائے غضبآنسو نایاب ہو گئے ہائے غضبMir Anees (1803–1874)
  44. بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے ابہشیار انیس تو مسافر ہے ابMir Anees (1803–1874)
  45. برہم ہے جہاں عجب تلاطم ہے آجسب روتے ہیں دنیا میں خوشی گم ہے آجMir Anees (1803–1874)
  46. بست و یکم ماہ محرم ہے آججس آنکھ کو دیکھیے وہ پر نم ہے آجMir Anees (1803–1874)
  47. بے جا نہیں مدح شہ میں غرا میرابھرتی سے کلام ہے معرا میراMir Anees (1803–1874)
  48. بے دینوں کو مرتضیٰ نے ایماں بخشادین داروں کو جنت کا گلستاں بخشاMir Anees (1803–1874)
  49. پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے توآنکھیں جسے ڈھونڈھتی ہیں وہ نور ہے توMir Anees (1803–1874)
  50. تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجادشب کو کبھی راحت سے نہ سوئے سجادMir Anees (1803–1874)