تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد
Mir Anees (1803–1874)تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد
شب کو کبھی راحت سے نہ سوئے سجاد
جب تک جیے ہنستے نہ کسی نے دیکھا
چالیس برس باپ کو روئے سجاد
تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد
شب کو کبھی راحت سے نہ سوئے سجاد
جب تک جیے ہنستے نہ کسی نے دیکھا
چالیس برس باپ کو روئے سجاد