اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میں

Mir Anees (1803–1874)

اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میں

توفیق رفیق ہو تو چلتا ہوں میں

تقدیر نے بیڑیاں تو کاٹی ہیں انیسؔ

کیوں رک گئے پاؤں ہاتھ ملتا ہوں میں