بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب

Mir Anees (1803–1874)

بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب

ہشیار انیس تو مسافر ہے اب

پیدا ہے سپیدی سحر پیری کی

لے خواب سے چونک رات آخر ہے اب