آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہے

Mir Anees (1803–1874)

آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہے

اشکوں کی ردا منہ پہ پڑی رہتی ہے

دونوں آنکھیں ہیں میری ساون بھادوں

یاں سارے برس ایک جھڑی رہتی ہے