انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو

Mir Anees (1803–1874)

انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو

جو لطف کلام ہیں وہ سارے سمجھو

آواز گرفتہ گو ہے اس ذاکر کی

پہروں رؤو اگر اشارے سمجھو