قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علی
Mir Anees (1803–1874)قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علی
پنہاں ہے کبھی تو گاہ پیدا ہے علی
ہوتا ہے گماں خدا کا جس پر ہر بار
اللہ اللہ ایسا بندہ ہے علی
qatre hain ye sab jis ke wo dariya hai ali
pinhan hai kabhi to gah paida hai ali
hota hai guman khuda ka jis par har bar
allah allah aisa banda hai ali