Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج سنتے ہیں کہ میرے گھر وہ یار آنے کو ہےاپنے قابو میں دل بے اختیار آنے کو ہےجمیلہ خدا بخش
  2. آج قابو میں یہ مزاج نہیںبے خودی کا کوئی علاج نہیںجمیلہ خدا بخش
  3. اس قدر ظلم و ستم اے ستم ایجاد نہ کرخاک ہم خاک نشینوں کی تو برباد نہ کرجمیلہ خدا بخش
  4. ایسی حالت نہ ہو کسی دل کیکیا کہوں ہائے بے بسی دل کیجمیلہ خدا بخش
  5. اے جذب دل وہ دن تو میسر خدا کرےمیرے لیے وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرےجمیلہ خدا بخش
  6. اے صنم طالب نہیں وہ خلد سے گلزار کامبتلا کو چاہیے سایہ تری دیوار کاجمیلہ خدا بخش
  7. بتائیں تم سے کیا ہم عاشق بیمار کس کے ہیںہمارے دیدۂ تر طالب دیدار کس کے ہیںجمیلہ خدا بخش
  8. برہمن لے کے جو میرے لیے زنار آیااس نے سمجھا کہ یہی بت کا خریدار آیاجمیلہ خدا بخش
  9. پہلو کو ترے عشق میں ویراں نہیں دیکھااس دل کو کبھی خالی از ارماں نہیں دیکھاجمیلہ خدا بخش
  10. تماشا ہو جو دل میں عکس روئے یار ہو پیداکہ اپنا عشق کا اک محرم اسرار ہو پیداجمیلہ خدا بخش
  11. تمہارے دید کی حسرت بہت مشکل سے نکلے گیدعا بن کر شب غم وہ ہمارے دل سے نکلے گیجمیلہ خدا بخش
  12. تو ہے کعبہ میں تو پھر دل میں گزر کس کا ہےلا مکاں تیرا اگر ہے تو یہ گھر کس کا ہےجمیلہ خدا بخش
  13. تیرے عاشق کو طلب گل کی نہ گلزار کی تھیجوش وحشت میں ہوس وادیٔ پر خار کی تھیجمیلہ خدا بخش
  14. تیغ ابرو کا جو قتیل ہواوہ شہیدوں میں بے عدیل ہواجمیلہ خدا بخش
  15. حالت تو دیکھ لی مری چشم پر آب کیساقی نہیں ہوس مجھے جام شراب کیجمیلہ خدا بخش
  16. خالی عاشق سے کبھی کوچۂ جاناں نہ رہاکون سی شب وہ تھی جس میں کوئی گریاں نہ رہاجمیلہ خدا بخش
  17. خوں رلاتی ہے تری حسرت دیدار مجھےتیری فرقت نے کیا جان سے بیزار مجھےجمیلہ خدا بخش
  18. درد دل وہ ہے کہ راحت سے سروکار نہیںطاقت صبر نہیں قوت گفتار نہیںجمیلہ خدا بخش
  19. دل جو آئینہ سا نہیں ہوتایار جلوہ نما نہیں ہوتاجمیلہ خدا بخش
  20. دل ویراں بھی تھا مسکن کسی کااسی میں نور تھا روشن کسی کاجمیلہ خدا بخش
  21. دیتا ہوں دل جسے وہ کہیں بے وفا نہ ہویہ عشق میرے واسطے شاید قضا نہ ہوجمیلہ خدا بخش
  22. دیکھیے گل کی محبت ہمیں کیا دیتی ہےبلبل زار یہ حسرت سے صدا دیتی ہےجمیلہ خدا بخش
  23. روبرو آنا چھپانا چھوڑ دےلن ترانی کا سنانا چھوڑ دےجمیلہ خدا بخش
  24. روح کے جانے کی قالب سے کوئی مدت نہیںصبر کر اے دل تجھے کیا صبر کی طاقت نہیںجمیلہ خدا بخش
  25. زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہایہ برہمن ہے صاحب ایماں نہیں رہاجمیلہ خدا بخش
  26. ستم ہے تیرے عاشق کے لئے بیمار ہو جانابڑی آفت ہے دل کے ہاتھ سے ناچار ہو جاناجمیلہ خدا بخش
  27. سمجھ کے ظلم کرو اے بتو خدا بھی ہےتمہارے جور و جفا کی کچھ انتہا بھی ہےجمیلہ خدا بخش
  28. سوزش شعلۂ فرقت سے فنا ہو جانامرض غم کے لیے ہے یہ دوا ہو جاناجمیلہ خدا بخش
  29. شعلۂ آہ نے سیکھا ہے جلانا دل کانہیں ملتا ہے جو پہلو میں ٹھکانا دل کاجمیلہ خدا بخش
  30. صبر کر صبر دل زار یہ وحشت کیا ہےدشت پر خار میں جانے کی ضرورت کیا ہےجمیلہ خدا بخش
  31. طاقت صبر ترے بے سر و ساماں میں نہیںاستقامت اسے اس عالم امکاں میں نہیںجمیلہ خدا بخش
  32. عشق بتاں کا جب سے مجھے ڈھنگ آ گیاہاتھوں سے میرے دست جنوں تنگ آ گیاجمیلہ خدا بخش
  33. عشق کو دل میں چھپا لیتے ہیں کامل کیوں کران پر آسان ہوا کرتی ہے مشکل کیوں کرجمیلہ خدا بخش
  34. فصل گل دیکھ کے افزوں ہوئی وحشت اپنیلے چلے دیکھیے کس جا مجھے قسمت اپنیجمیلہ خدا بخش
  35. کاٹوں گا شب تڑپ کر رو کر سحر کروں گافرقت میں تیری جاناں یوں ہی بسر کروں گاجمیلہ خدا بخش
  36. کر دیا زلف پریشاں سا پریشاں مجھ کودشت میں چھوڑ گیا ہے دل ناداں مجھ کوجمیلہ خدا بخش
  37. کون سی شے میں ترا نور نہیںکس جگہ پر ترا ظہور نہیںجمیلہ خدا بخش
  38. کہاں لے جائے گی دیکھوں یہ میری آرزو مجھ کولیے پھرتی ہے ہر جانب تمہاری جستجو مجھ کوجمیلہ خدا بخش
  39. کہو تو آج دل بے قرار کیسے ہوشب الم کے ستائے نزار کیسے ہوجمیلہ خدا بخش
  40. کیا جب صبر فرقت میں تو پھر ذکر بتاں کیسابہ آہ و زاریاں کیسی ہیں یہ شور فغاں کیساجمیلہ خدا بخش
  41. کیا خبر تھی یار کے آتے ہی آفت آئے گیقامت زیبا میں پوشیدہ قیامت آئے گیجمیلہ خدا بخش
  42. کیسی ہے آہ اپنی طبیعت بھری ہوئیآنکھوں میں اشک اشک میں حسرت بھری ہوئیجمیلہ خدا بخش
  43. گرنے کا بہت ڈر ہے اے دل نہ پھسل جانااس بام محبت پر مشکل ہے سنبھل جاناجمیلہ خدا بخش
  44. گو شمع ہوں پہ محفل جاناں سے دور ہوںمیں عندلیب ہوں پہ گلستاں سے دور ہوںجمیلہ خدا بخش
  45. لیا ہے عشق نے کیا انتخاب کر کے مجھےچنا جو بزم میں جام شراب کر کے مجھےجمیلہ خدا بخش
  46. مرتے مرتے یہ ہم نے کام کیاجان دے کر وفا کا نام کیاجمیلہ خدا بخش
  47. مشکل ہے کہ پہلو سے جدا دل نہیں ہوتااور میرے ستانے سے وہ غافل نہیں ہوتاجمیلہ خدا بخش
  48. ممکن نہیں دوا ہے اس آزار کے لیےبہتر ہے موت عاشق بیمار کے لیےجمیلہ خدا بخش
  49. میں عاشق ہوں مجھے مقتل میں اپنا نام کرنا ہےڈرے گا خنجر قاتل سے کیا وہ جس کو مرنا ہےجمیلہ خدا بخش
  50. نعش اس عاشق ناشاد کی اٹھوانے دواب اسے زیر زمیں چین سے سو جانے دوجمیلہ خدا بخش