Poetry
- آج سنتے ہیں کہ میرے گھر وہ یار آنے کو ہےاپنے قابو میں دل بے اختیار آنے کو ہےجمیلہ خدا بخش
- آج قابو میں یہ مزاج نہیںبے خودی کا کوئی علاج نہیںجمیلہ خدا بخش
- اس قدر ظلم و ستم اے ستم ایجاد نہ کرخاک ہم خاک نشینوں کی تو برباد نہ کرجمیلہ خدا بخش
- ایسی حالت نہ ہو کسی دل کیکیا کہوں ہائے بے بسی دل کیجمیلہ خدا بخش
- اے جذب دل وہ دن تو میسر خدا کرےمیرے لیے وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرےجمیلہ خدا بخش
- اے صنم طالب نہیں وہ خلد سے گلزار کامبتلا کو چاہیے سایہ تری دیوار کاجمیلہ خدا بخش
- بتائیں تم سے کیا ہم عاشق بیمار کس کے ہیںہمارے دیدۂ تر طالب دیدار کس کے ہیںجمیلہ خدا بخش
- برہمن لے کے جو میرے لیے زنار آیااس نے سمجھا کہ یہی بت کا خریدار آیاجمیلہ خدا بخش
- پہلو کو ترے عشق میں ویراں نہیں دیکھااس دل کو کبھی خالی از ارماں نہیں دیکھاجمیلہ خدا بخش
- تماشا ہو جو دل میں عکس روئے یار ہو پیداکہ اپنا عشق کا اک محرم اسرار ہو پیداجمیلہ خدا بخش
- تمہارے دید کی حسرت بہت مشکل سے نکلے گیدعا بن کر شب غم وہ ہمارے دل سے نکلے گیجمیلہ خدا بخش
- تو ہے کعبہ میں تو پھر دل میں گزر کس کا ہےلا مکاں تیرا اگر ہے تو یہ گھر کس کا ہےجمیلہ خدا بخش
- تیرے عاشق کو طلب گل کی نہ گلزار کی تھیجوش وحشت میں ہوس وادیٔ پر خار کی تھیجمیلہ خدا بخش
- تیغ ابرو کا جو قتیل ہواوہ شہیدوں میں بے عدیل ہواجمیلہ خدا بخش
- حالت تو دیکھ لی مری چشم پر آب کیساقی نہیں ہوس مجھے جام شراب کیجمیلہ خدا بخش
- خالی عاشق سے کبھی کوچۂ جاناں نہ رہاکون سی شب وہ تھی جس میں کوئی گریاں نہ رہاجمیلہ خدا بخش
- خوں رلاتی ہے تری حسرت دیدار مجھےتیری فرقت نے کیا جان سے بیزار مجھےجمیلہ خدا بخش
- درد دل وہ ہے کہ راحت سے سروکار نہیںطاقت صبر نہیں قوت گفتار نہیںجمیلہ خدا بخش
- دل جو آئینہ سا نہیں ہوتایار جلوہ نما نہیں ہوتاجمیلہ خدا بخش
- دل ویراں بھی تھا مسکن کسی کااسی میں نور تھا روشن کسی کاجمیلہ خدا بخش
- دیتا ہوں دل جسے وہ کہیں بے وفا نہ ہویہ عشق میرے واسطے شاید قضا نہ ہوجمیلہ خدا بخش
- دیکھیے گل کی محبت ہمیں کیا دیتی ہےبلبل زار یہ حسرت سے صدا دیتی ہےجمیلہ خدا بخش
- روبرو آنا چھپانا چھوڑ دےلن ترانی کا سنانا چھوڑ دےجمیلہ خدا بخش
- روح کے جانے کی قالب سے کوئی مدت نہیںصبر کر اے دل تجھے کیا صبر کی طاقت نہیںجمیلہ خدا بخش
- زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہایہ برہمن ہے صاحب ایماں نہیں رہاجمیلہ خدا بخش
- ستم ہے تیرے عاشق کے لئے بیمار ہو جانابڑی آفت ہے دل کے ہاتھ سے ناچار ہو جاناجمیلہ خدا بخش
- سمجھ کے ظلم کرو اے بتو خدا بھی ہےتمہارے جور و جفا کی کچھ انتہا بھی ہےجمیلہ خدا بخش
- سوزش شعلۂ فرقت سے فنا ہو جانامرض غم کے لیے ہے یہ دوا ہو جاناجمیلہ خدا بخش
- شعلۂ آہ نے سیکھا ہے جلانا دل کانہیں ملتا ہے جو پہلو میں ٹھکانا دل کاجمیلہ خدا بخش
- صبر کر صبر دل زار یہ وحشت کیا ہےدشت پر خار میں جانے کی ضرورت کیا ہےجمیلہ خدا بخش
- طاقت صبر ترے بے سر و ساماں میں نہیںاستقامت اسے اس عالم امکاں میں نہیںجمیلہ خدا بخش
- عشق بتاں کا جب سے مجھے ڈھنگ آ گیاہاتھوں سے میرے دست جنوں تنگ آ گیاجمیلہ خدا بخش
- عشق کو دل میں چھپا لیتے ہیں کامل کیوں کران پر آسان ہوا کرتی ہے مشکل کیوں کرجمیلہ خدا بخش
- فصل گل دیکھ کے افزوں ہوئی وحشت اپنیلے چلے دیکھیے کس جا مجھے قسمت اپنیجمیلہ خدا بخش
- کاٹوں گا شب تڑپ کر رو کر سحر کروں گافرقت میں تیری جاناں یوں ہی بسر کروں گاجمیلہ خدا بخش
- کر دیا زلف پریشاں سا پریشاں مجھ کودشت میں چھوڑ گیا ہے دل ناداں مجھ کوجمیلہ خدا بخش
- کون سی شے میں ترا نور نہیںکس جگہ پر ترا ظہور نہیںجمیلہ خدا بخش
- کہاں لے جائے گی دیکھوں یہ میری آرزو مجھ کولیے پھرتی ہے ہر جانب تمہاری جستجو مجھ کوجمیلہ خدا بخش
- کہو تو آج دل بے قرار کیسے ہوشب الم کے ستائے نزار کیسے ہوجمیلہ خدا بخش
- کیا جب صبر فرقت میں تو پھر ذکر بتاں کیسابہ آہ و زاریاں کیسی ہیں یہ شور فغاں کیساجمیلہ خدا بخش
- کیا خبر تھی یار کے آتے ہی آفت آئے گیقامت زیبا میں پوشیدہ قیامت آئے گیجمیلہ خدا بخش
- کیسی ہے آہ اپنی طبیعت بھری ہوئیآنکھوں میں اشک اشک میں حسرت بھری ہوئیجمیلہ خدا بخش
- گرنے کا بہت ڈر ہے اے دل نہ پھسل جانااس بام محبت پر مشکل ہے سنبھل جاناجمیلہ خدا بخش
- گو شمع ہوں پہ محفل جاناں سے دور ہوںمیں عندلیب ہوں پہ گلستاں سے دور ہوںجمیلہ خدا بخش
- لیا ہے عشق نے کیا انتخاب کر کے مجھےچنا جو بزم میں جام شراب کر کے مجھےجمیلہ خدا بخش
- مرتے مرتے یہ ہم نے کام کیاجان دے کر وفا کا نام کیاجمیلہ خدا بخش
- مشکل ہے کہ پہلو سے جدا دل نہیں ہوتااور میرے ستانے سے وہ غافل نہیں ہوتاجمیلہ خدا بخش
- ممکن نہیں دوا ہے اس آزار کے لیےبہتر ہے موت عاشق بیمار کے لیےجمیلہ خدا بخش
- میں عاشق ہوں مجھے مقتل میں اپنا نام کرنا ہےڈرے گا خنجر قاتل سے کیا وہ جس کو مرنا ہےجمیلہ خدا بخش
- نعش اس عاشق ناشاد کی اٹھوانے دواب اسے زیر زمیں چین سے سو جانے دوجمیلہ خدا بخش