آج قابو میں یہ مزاج نہیں

جمیلہ خدا بخش

آج قابو میں یہ مزاج نہیں

بے خودی کا کوئی علاج نہیں

وقت آخر ہے میرا جاؤ طبیب

اب دوا کی تو احتیاج نہیں

عہد میں میرے شاہ خوباں کے

ستم و ظلم کا رواج نہیں

مجھ کو دکھلا دو روئے غوث خدا

اور کوئی مرا علاج نہیں

کم نہیں فقر بادشاہی سے

کچھ تمنائے تخت و تاج نہیں

شاہ خوباں کے واسطے ہرگز

غیر از دل کوئی خراج نہیں

ہفت اقلیم نذر شہ کرتے

اے جمیلہؔ ہمارا راج نہیں