Poetry
- آدھوں کی طرف سے کبھی پونوں کی طرف سےآوازے کسے جاتے ہیں بونوں کی طرف سےAdil Mansuri (1936–2008)
- اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصاراک شخص چیختا ہے سمندر کے آر پارAdil Mansuri (1936–2008)
- ابلاغ کے بدن میں تجسس کا سلسلہٹوٹا ہے چشم خواب میں حیرت کا آئنہAdil Mansuri (1936–2008)
- ایک قطرہ اشک کا چھلکا تو دریا کر دیاایک مشت خاک جو بکھری تو صحرا کر دیاAdil Mansuri (1936–2008)
- بدن پر نئی فصل آنے لگیہوا دل میں خواہش جگانے لگیAdil Mansuri (1936–2008)
- بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھامیں ہاتھ میں تلوار لیے جھوم رہا تھاAdil Mansuri (1936–2008)
- بھول کر بھی نہ پھر ملے گا توجانتا ہوں یہی کرے گا توAdil Mansuri (1936–2008)
- پانی کو پتھر کہتے ہیںکیا کچھ دیدہ ور کہتے ہیںAdil Mansuri (1936–2008)
- پہلو کے آر پار گزرتا ہوا سا ہواک شخص آئنے میں اترتا ہوا سا ہوAdil Mansuri (1936–2008)
- پھر کسی خواب کے پردے سے پکارا جاؤںپھر کسی یاد کی تلوار سے مارا جاؤںAdil Mansuri (1936–2008)
- پھیلے ہوئے ہیں شہر میں سائے نڈھال سےجائیں کہاں نکل کے خیالوں کے جال سےAdil Mansuri (1936–2008)
- جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پاسورج کا ہاتھ شام کی گردن پہ جا پڑاAdil Mansuri (1936–2008)
- جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھیتنہائیٔ شب بند قبا کھول رہی تھیAdil Mansuri (1936–2008)
- جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھاک روز میری جان یہ حرکت بھی کر کے دیکھAdil Mansuri (1936–2008)
- چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کواور اس کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کروAdil Mansuri (1936–2008)
- چہرے پہ چمچاتی ہوئی دھوپ مر گئیسورج کو ڈھلتا دیکھ کے پھر شام ڈر گئیAdil Mansuri (1936–2008)
- حج کا سفر ہے اس میں کوئی ساتھ بھی تو ہوپردہ نشیں سے اپنی ملاقات بھی تو ہوAdil Mansuri (1936–2008)
- دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کاجھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیاAdil Mansuri (1936–2008)
- دور افق کے پار سے آواز کے پروردگارصدیوں سوئی خامشی کو سامنے آ کر پکارAdil Mansuri (1936–2008)
- زمیں چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گااندھیروں کے اندر اتر جاؤں گاAdil Mansuri (1936–2008)
- سانس کی آنچ ذرا تیز کروکانچ کا جسم پگھل جانے دوAdil Mansuri (1936–2008)
- سڑکوں پر سورج اتراسایہ سایہ ٹوٹ گیاAdil Mansuri (1936–2008)
- سوئے ہوئے پلنگ کے سائے جگا گیاکھڑکی کھلی تو آسماں کمرے میں آ گیاAdil Mansuri (1936–2008)
- عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کےہیں ان کے دل میں وسوسے اب احتساب کےAdil Mansuri (1936–2008)
- کون تھا وہ خواب کے ملبوس میں لپٹا ہوارات کے گنبد سے ٹکرا کر پلٹ آئی صداAdil Mansuri (1936–2008)
- گانٹھی ہے اس نے دوستی اک پیش امام سےعادلؔ اٹھا لو ہاتھ دعا و سلام سےAdil Mansuri (1936–2008)
- گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میںاس کا لہو بھی مر گیا صبح کے انتظار میںAdil Mansuri (1936–2008)
- مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوںیہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوںAdil Mansuri (1936–2008)
- نہ کوئی روک سکا خواب کے سفیروں کواداس کر گئے نیندوں کے راہگیروں کوAdil Mansuri (1936–2008)
- وسعت دامن صحرا دیکھوںاپنی آواز کو پھیلا دیکھوںAdil Mansuri (1936–2008)
- وہ برسات کی شب وہ پچھلا پہراندھیرے کے پہلو میں سنسان گھرAdil Mansuri (1936–2008)
- وہ تم تک کیسے آتاجسم سے بھاری سایہ تھاAdil Mansuri (1936–2008)
- وہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہے سنوخدا کے لیے کوئی تو روک لوAdil Mansuri (1936–2008)
- ہاتھ میں آفتاب پگھلا کررات بھر روشنی سے کھیلا کرAdil Mansuri (1936–2008)
- ہر خواب کالی رات کے سانچے میں ڈھال کریہ کون چھپ گیا ہے ستارے اچھال کرAdil Mansuri (1936–2008)
- ہوا ختم دریا تو صحرا لگاسفر کا تسلسل کہاں جا لگاAdil Mansuri (1936–2008)
- ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھانفرت کا ریگزار مگر درمیان تھاAdil Mansuri (1936–2008)
- یہ پھیلتی شکستگی احساس کی طرفدریا رواں دواں ہیں مری پیاس کی طرفAdil Mansuri (1936–2008)
- اب نہ زنجیر کھڑکنے کی صدا آئے گیزنداں مہکے گا نہ اب باد صبا آئے گیAdil Mansuri (1936–2008)
- الف لفظ و معانی سے مبراالف تنہائی کا روشن ہیولیٰAdil Mansuri (1936–2008)
- بند مٹھی میں ہونٹ کے ٹکڑےاور ٹکڑوں میں ہانپتے سورجAdil Mansuri (1936–2008)
- پتھر پر تصویر بنا کرپانی میں چھپ جاتا ہےAdil Mansuri (1936–2008)
- پتھروں پر جمی ہوئی نظریںگاڑھا سیال لمحہ لمحہ رواںAdil Mansuri (1936–2008)
- تبوک آواز دے رہا ہےزمیں سے اب جو چپک رہے گاAdil Mansuri (1936–2008)
- تنگ تاریک گلی میں کتامیلا میلا سا تھرتھراتا چاندAdil Mansuri (1936–2008)
- چاند کے پیٹ میں حمل مچھلیمچھلی کے منہ میں کل وجود و عدمAdil Mansuri (1936–2008)
- خوں پتھر پہ سرک آیاگہرا نیلا رنگ ہوا میں ڈوب گیاAdil Mansuri (1936–2008)
- درد تنہائی کی پسلی سے نکل کر آیارات کا ہاتھ لگا اور ہوا ٹوٹ گئیAdil Mansuri (1936–2008)
- دو کالے تکونکالے وزن دار تکونAdil Mansuri (1936–2008)
- رات اور دن کے درمیاں کوئیریڑھ کی ہڈی توڑ کر نکلاAdil Mansuri (1936–2008)