پتھر پر تصویر بنا کر
Adil Mansuri (1936–2008)پتھر پر تصویر بنا کر
پانی میں چھپ جاتا ہے
صحرا صحرا خاک اڑاتا
جنگل میں لہراتا ہے
سوکھے پتوں کو کھڑکاتا
سبزے سے شرماتا ہے
صدیوں کے تاریک کھنڈر میں
جب آواز لگاتا ہے
لا محدود خلا کے لب پر
خاموشی بن جاتا ہے
پتھر پر تصویر بنا کر
پانی میں چھپ جاتا ہے
صحرا صحرا خاک اڑاتا
جنگل میں لہراتا ہے
سوکھے پتوں کو کھڑکاتا
سبزے سے شرماتا ہے
صدیوں کے تاریک کھنڈر میں
جب آواز لگاتا ہے
لا محدود خلا کے لب پر
خاموشی بن جاتا ہے