وہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہے سنو

Adil Mansuri (1936–2008)

وہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہے سنو

خدا کے لیے کوئی تو روک لو

کھلے سر پریشان سڑکوں پہ وہ

کسے ڈھونڈھتا ہے ذرا پوچھ لو

کہیں کھو نہ جائے وہ اس بھیڑ میں

لپک کر ذرا اس کو آواز دو

یہ شعلے اگلتی ہوئی دوپہر

جلا دے گی اس کے ہر اک خواب کو

وہ لمحوں کی چلتی ہوئی برچھیاں

اسی سمت بڑھتا ہے وہ شخص تو