Poetry
Poet
Meter
- نہ اتنا چاہئے اے پر شکم خوابکہ تیرے حق میں ہے ظالم ستم خوابShah Hatim (1699–1783)
- نہ بلبل میں نہ پروانے میں دیکھاجو سودا اپنے دیوانے میں دیکھاShah Hatim (1699–1783)
- نہ تن میں استخوان نے رگ رہی ہےلبوں پر کیونکہ جان اب لگ رہی ہےShah Hatim (1699–1783)
- نہ کچھ ستم سے ترے آہ آہ کرتا ہوںمیں اپنے دل کی مدد گاہ گاہ کرتا ہوںShah Hatim (1699–1783)
- نہ محتسب سے یہ مجھ کو غرض نہ مست سے کاممجھے تو لینا ہے ساقی کے آج دست سے کامShah Hatim (1699–1783)
- نے شکوہ مند دل سے نہ از دست دیدہ ہوںاس بخت نارسا سے اذیت کشیدہ ہوںShah Hatim (1699–1783)
- وحشت سے ہر سخن مرا گویا غزالہ ہےبو سے نشہ ہو یہ وہ مے دیر سالہ ہےShah Hatim (1699–1783)
- ہر گل اس باغ کا نظروں میں دہاں ہے گویاصورت غنچہ جو دیکھوں تو زباں ہے گویاShah Hatim (1699–1783)
- ہستی کی قید سے اے دل آزاد ہوئیےصحرا میں جا کے خوب سا ہنس ہنس کے روئیےShah Hatim (1699–1783)
- ہماری سیر کو گلشن سے کوئے یار بہتر تھانفیر بلبلوں سے نالہ ہائے زار بہتر تھاShah Hatim (1699–1783)
- ہماری عقل بے تدبیر پر تدبیر ہنستی ہےاگر تدبیر ہم کرتے ہیں تو تقدیر ہنستی ہےShah Hatim (1699–1783)
- ہم کو کب انتظار ہے فصل بہار ہو نہ ہوداغ جگر شگفتہ باد گل بہ کنار ہو نہ ہوShah Hatim (1699–1783)
- ہمیں یاد آوتی ہیں باتیں اس گل رو کی رہ رہ کےنہیں ہیں باغ میں مشتاق ہم بلبل کے چہ چہ کےShah Hatim (1699–1783)
- ہو رہا ہے ابر اور کرتا ہے وہ جانانہ رقصبرق گرد اس کے کرے ہے آ کے بے تابانہ رقصShah Hatim (1699–1783)
- ہووے وہ شوخ چشم اگر مجھ سے چار چشمقرباں کروں میں چشم پر اس کے ہزار چشمShah Hatim (1699–1783)
- یار نکلا ہے آفتاب کی طرحکون سی اب رہی ہے خواب کی طرحShah Hatim (1699–1783)
- دیکھا کسی نے ہم سے زمانے نے کیا کیااور کیا کہیں کہ یار یگانے نے کیا کیاShah Hatim (1699–1783)
- ہولی (شیخ ظہور الدین حاتم)Shah Hatim (1699–1783)
- آیا پیا شراب کا پیالا پیا ہوادل کے دیے کی جوت سیں کاجل دیا ہواSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اپنا جمال مجھ کوں دکھایا رسول آجعاجز کی التماس کوں کرنا قبول آجSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- ادائے دل فریب سرو قامتقیامت ہے قیامت ہے قیامتSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اس لب کوں کب پسند ہیں رسمی کٹوریاںلالہ کے پھول کی ہیں جسے قہوہ خوریاںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اشک خونیں ہے شفق آج مری آنکھوں میںسانجھ پھولی ہے ترے باج مری آنکھوں میںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اغیار چھوڑ مجھ سیں اگر یار ہووے گاشاید کہ یار محرم اسرار ہووے گاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتےپہنچتے جا لب ساقی کوں پیمانے ہوئے ہوتےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اول سیں دل مرا جو گرفتار تھا سو ہےمیرے گلے میں عشق کا زنار تھا سو ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اے باغ حیا دل کی گرہ کھول سخن بولتنگی ہے مرے حال پر اے غنچہ دہن بولSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اے دل بے ادب اس یار کی سوگند نہ کھاتوں ہر اک بات میں دل دار کی سوگند نہ کھاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اے دوست تلطف سیں مرے حال کوں آ دیکھسینے کی اگن مہر کے پانی سیں بجھا دیکھSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اے صنم تجھ برہ میں روتا ہوںاشک خونیں سیں منہ کوں دھوتا ہوںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- بات کر دل ستی حجاب نکالغنچۂ لب ستی گلاب نکالSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- بار تجھ ہجر کا بھاری ہے خدا خیر کرےرات دن نالہ و زاری ہے خدا خیر کرےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- بھرا کمال وفا سیں خیال کا شیشہکہ ہوئے بدر سیں پورا ہلال کا شیشہSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- پرخوں ہے جگر لالۂ سیراب کی سوگندرنگینیٔ داغ دل بیتاب کی سوگندSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- پی کر شراب شوق کوں بے ہوش ہو بے ہوش ہوجیوں غنچہ لب کوں بند کر خاموش ہو خاموش ہوSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- پیو کے آنے کا وقت آیا ہےجی کے جانے کا وقت آیا ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تجھ پر فدا ہیں سارے حسن و جمال والےکیا صاف گال والے کیا خط و خال والےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تجھ زلف کی شکن ہے مانند دام گویایا صبح پر ہماری آئی ہے شام گویاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجوخموشی کے مکاں میں بات اور گفتار مت کیجوSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تری زلف زنار کا تار ہےکہ جس تار میں دل گرفتار ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تری نگاہ تلطف نے فیض عام کیاخرد کے شہر کے سب وحشیوں کوں رام کیاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تری نگاہ کی انیاں جگر میں سلیاں ہیںنجانوں کون سے زہر آب بیچ پلیاں ہیںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تمہاری زلف کا ہر تار موہنہوا میرے گلے کا ہار موہنSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تھا بہانہ مجھے زنجیر کے ہل جانے کاچھوڑ دیو اب تو ہوا شوق نکل جانے کاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تیری بھنووں کی تیغ کے جو روبرو ہواسب عاشقوں کی صف میں وو ہی سرخ رو ہواSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تیرے ابرو کی عجب بیت ہے حالی اے شوخجس میں ہے مطلب دیوان ہلالی اے شوخSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جاناں پہ جی نثار ہوا کیا بجا ہوااس راہ میں غبار ہوا کیا بجا ہواSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جان جاتا ہے اب تو آ جانیہجر کی آگ پر چھڑک پانیSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جان و دل سیں میں گرفتار ہوں کن کا ان کابندۂ بے زر و دینار ہوں کن کا ان کاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جب سیں تجھ عشق کی گرمی کا اثر ہے من میںتب سیں پھرتا ہوں اداسی ہو برہ کے بن میںSiraj Aurangabadi (1712–1764)