Poetry
Poet
Meter
- جب سیں دیکھا ہوں یار کی صورتگل کوں بوجھا ہوں خار کی صورتSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جس دن سیں میں یار بوجھتا ہوںکب صبر و قرار بوجھتا ہوںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جس کوں پیو کے ہجر کا بیراگ ہےآہ کا مجلس میں اس کی راگ ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جس کوں تجھ غم سیں دل شگافی ہےمرہم وصل اس کوں شافی ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جس کوں درد جگر کی لذت ہےزہر اس کوں مثال امرت ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جس کوں ملک بے خودی کا راج ہےہے زمیں تخت اور بگولا تاج ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جس نے تجھ حسن پر نگاہ کیانور خورشید فرش راہ کیاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جلوۂ جاں فزا دکھاتا رہدل بے جان کوں جلاتا رہSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جو تجھے دیکھ کے مبہوت ہواخون دل اس کو سدا قوت ہواSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولنا تھا بول چکابیان عشق کے طومار کوں میں کھول چکاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- چراغ مہ سیں روشن تر ہے حسن بے مثال اس کاکہ چوتھے چرخ پر خورشید ہے عکس جمال اس کاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- خاک ہوں اعتبار کی سوگندمضطرب ہوں قرار کی سوگندSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہینہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہیSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- خوب بوجھا ہوں میں اس یار کوں کوئی کیا جانےاس طرح کے بت عیار کوں کوئی کیا جانےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دلبری ہر بوالہوس کی حد سیں افزوں مت کرومفلس بے قدر کوں یک پل میں قاروں مت کروSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دل دار کی کشش نے اینچا ہے من ہماراہے خاک اس قدم کی شاید وطن ہماراSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دل مرا ساغر شکایت ہےزہر غم بس کہ بے نہایت ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دل میں جب آ کے عشق نے تیرے محل کیاسب دست و پائے عقل کوں یک پل میں شل کیاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دل میں خیالات رنگیں گزرتے ہیں جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیےوحشت کے جنگل میں کب لگ پریشاں ہو غم کے بھاروں کے سنگوں میں رہیےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دل ناداں مرا ہے بے تقصیرذبح کرتے ہو اوس کوں بے تکبیرSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دن بدن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگایا تو تھا ویسا کرم یا یہ ستم ہونے لگاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جاسراپا موم ہو یا سنگ ہو جاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دیکھا ہے جس نے یار کے رخسار کی طرفہرگز نہ جاوے سیر کوں گل زار کی طرفSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- رشتے میں تری زلف کے ہے جان ہمارابے جا نہیں سنبل کے اوپر مان ہماراSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- زلف مشکین یار قہری ہےکیا قیامت کا ناگ زہری ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- سرو گلشن پر سخن اس قد کا بالا ہو گیاہر نہال اس شرم سیں جنگل کا پالا ہو گیاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- سنو تو خوب ہے ٹک کان دھر میرا سخن پیارےکہ عاشق پر نہ ہونا اس قدر بھی دل کٹھن پیارےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- سیماب جل گیا تو اسے گرد بولئےعاشق فنا ہوا تو اسے مرد بولئےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- شربت وصل پلا جا لب شیریں کی قسمجان جاتا ہے مرا سورۂ یٰسیں کی قسمSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- صنم جب چیرۂ زر تار باندھےجھلک سیں کوچہ و بازار باندھےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- صنم خوش طبعیاں سیکھے ہو تم کن کن ظریفوں سیںکہ یہ لطف ادا معلوم ہوتا ہے لطیفوں سیںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- ظالم مرے جگر کوں کرے کیوں نہ پھانک پھانکسیکھا ہے وو نگہ کا پٹا اور ادا کا بانکSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عالم کے دوستوں میں مروت نہیں رہیشرم و حیا و مہر و شفقت نہیں رہیSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عشاق کا دل داغ کا اندازہ ہوا محضپیشانی دلبر پہ عجب غازہ ہوا محضSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عشق کی جو لگن نہیں دیکھاوو برہ کی اگن نہیں دیکھاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عشق میں آ کہ عقل کوں کھوناںباخرد ہو کے بے خرد ہوناںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عشق میں اول فنا درکار ہےدل سیں ترک ماسوا درکار ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عشق نے خوں کیا ہے دل جس کاپارۂ لعل اشک ہے تس کاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عمل سیں مے پرستوں کے تجھے کیا کام اے واعظشراب شوق کا تو نے پیا نیں جام اے واعظSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- غم آہستہ رو یاں رفتہ رفتہکیا ہے مجھ کوں حیراں رفتہ رفتہSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گاچشمۂ خورشید شبنم ہووے گاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- غم نے باندھا ہے مرے جی پہ کھلا ہائے کھلاپھر نئے سر سیتی آئی ہے بلا ہائے بلاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- فجر اٹھ یار کا دیدار کرناںشب ہجراں کا دکھ اظہار کرناںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- فدا کر جان اگر جانی یہی ہےارے دل وقت بے جانی یہی ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- فصل گل کا غم دل ناشاد پر باقی رہاحشر لگ یہ مظلمہ صیاد پر باقی رہاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- قد ترا سرو رواں تھا مجھے معلوم نہ تھاگلشن دل میں عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کافر ہوا ہوں رشتۂ زنار کی قسمتجھ زلف حلقہ دار کے ہر تار کی قسمSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہوکبھی تیر نگاہ تند کا برساؤ کرتے ہوSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کل سیں بے کل ہے مرا جی یار کوں دیکھا نہ تھاکیوں نہ ہووے بیتاب دل دل دار کوں دیکھا نہ تھاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کون کہتا ہے جفا کرتے ہو تمشرط معشوقی وفا کرتے ہو تمSiraj Aurangabadi (1712–1764)