آپ تو بات کا اخبار بنا دیتے ہیں

Idris Azad

آپ تو بات کا اخبار بنا دیتے ہیں

گھر کا ماحول پر اسرار بنا دیتے ہیں

بعض آنکھوں کو تکلم بھی عطا ہوتا ہے

اپنی خاموشی کو اظہار بنا دیتے ہیں

اب شکایت نہ کرو آپ نے جو درد دئے

ہم کو پینے کا روادار بنا دیتے ہیں

حسن مطلق تجھے معلوم کہاں لذت دید

آ تجھے طالب دیدار بنا دیتے ہیں

آپ کی جنبش ابرو یہ اشارے یہ کنائے

بات کو اور مزے دار بنا دیتے ہیں

ایسے احکام بھی تکوین کی ساعات میں ہیں

جو فرشتوں کو خطا کار بنا دیتے ہیں

ہم بھی آذر ہیں اگر آپ ہیں پتھر کی چٹان

آئیے آپ کو شہکار بنا دیتے ہیں

میں کہاں تم سے ملا رات کہاں چاندنی تھی

یوں ہی بس بات مرے یار بنا دیتے ہیں

دیکھ کر لوح لحد دل میں خیال آتا ہے

سر بناتے نہیں دستار بنا دیتے ہیں

ہم نے دیکھا ہے کرشمہ یہ ترے آہن گر

پل میں زنجیر کو تلوار بنا دیتے ہیں