اب تو اسباب و علل سے مجھے برتر کر دے

Idris Azad

اب تو اسباب و علل سے مجھے برتر کر دے

اس فریضے پہ فرشتوں کو مقرر کر دے

کھینچ کر حسن کے اندام سے زر بفت لباس

میت عشق کی عریانی پہ چادر کر دے

اس کو مل جائے مری ذات کی تخلیق کا لطف

میرے پارس کے لیے تو مجھے پتھر کر دے

خود سے آیا نہ گیا ہم کو بلایا سر عرش

اس پہ دعویٰ کہ غم عشق میں محشر کر دے

یا تسلسل سے نکل کر رخ تصویر میں آ

یا میری ذات کو تصویر سے باہر کر دے

وہ جفا پیشہ نہ کر پائے گا سر طور وجود

مشورہ ہے کہ ارادے کو مؤخر کر دے