چمن کی سیر بھی کافی رہی انا کے لیے
Idris Azadچمن کی سیر بھی کافی رہی انا کے لیے
صبا نے پھول کے بوسے مجھے دکھا کے لیے
خدا کی ناؤ میں پتوار رکھ دئے گئے ہیں
خود اک خدا کے لیے ایک ناخدا کے لیے
کسی نے وقت پہ رتبے لیے چلا کے ہوا
کسی نے وقت میں رتبے دیے جلا کے لیے
اس انبساط کا ہم کو ملا نہ عشر عشیر
مزے جو بچوں نے مٹی کے گھر بنا کے لیے
تمہاری آنکھیں جو دیکھیں تو یہ خیال آیا
کہیں تو کھڑکی کھلی ہے کوئی ہوا کے لیے
ہمارا رہن سہن ہی دعائیہ سا ہے
ہم اپنے ہاتھ اٹھاتے نہیں دعا کے لیے
نظام ظرف عجب فلسفے پہ چلتا ہے
جزا سزا کے لیے ہے سزا جزا کے لیے
جو پھول میں نے خریدے وہ اس کے ہاتھ میں ہیں
جو پھول اس نے لیے مجھ سے بھی چھپا کے لیے